امریکہ کی جانب سے یورپی مصنوعات پر اضافی محصولات عائد

فرانس اور جرمنی سے بڑے طیاروں کے مخصوص پارٹس کی درآمد پر اضافی 15 فیصد ٹیکس جبکہ دیگر مصنوعات پر 25 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے جو 12 جنوری 2021ء سے نافذالعمل ہو گی

197
فوٹو: گوگل

واشنگٹن: امریکہ نے فرانس اور جرمنی سے طیاروں کے پرزے اور دیگر مصنوعات کی درآمد پر 15 اور 25 فیصد اضافی محصولات عائد کر دیے۔

چینی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن نے گزشتہ روز جاری کردہ نوٹی فکیشن میں بتایا کہ محکمہ نے فرانس اور جرمنی سے بڑے طیاروں کے مخصوص پارٹس کی درآمد پر اضافی 15 فیصد اور دیگر مصنوعات پر 25 فیصد ڈیوٹی عائد کر دی ہیں جو 12 جنوری سے نافذالعمل ہو گئی ہیں۔

یہ نوٹی فکیشن گزشتہ ماہ امریکی تجارتی نمائندہ کے دفتر کی جانب سے یورپی یونین سے طیاروں کی سبسیڈیز پر 16 سالہ طویل تنازع کے بعد مخصوص مصنوعات پر 15 اور 25 فیصد تک اضافی محصولات عائد کرنے کے بیان کے بعد جاری کیا گیا ہے۔

31 دسمبر 2020ء کو امریکہ نے طیارہ ساز فرانسیسی کمپنی ایئربس کو دی جانے والی سبسڈی پر طویل عرصے سے چلنے والے تنازع کے تناظر میں فرانس اور جرمنی کی مصنوعات پر اضافی محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس وقت امریکہ کے تجارتی نمائندے نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ان کا اقدام یورپی یونین کی جانب سے لاگو کیے گئے ناجائز ٹیکس کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔

امریکا اور یورپ کے اس تنازع کا آغاز 2004ء میں ہوا تھا جب امریکا نے یورپی یونین کے ممالک پر الزام عائد کیا تھا کہ ان کی جانب سے ہوائی جہاز بنانے والی یورپی کمپنی ایئربس کو غیر قانونی سبسڈیز دی گئی ہیں۔

امریکا نے فرانس اور جرمنی پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ایئربس کی کئی مصنوعات میں تعاون کے لیے غیر قانونی سبسڈیز دے رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین کو دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے یورپی طیارہ ساز کمپنی ایئربس کو مراعات دینے کا سلسلہ بند نہ کیا تو امریکہ بھی یورپی یونین سے 11 ارب ڈالر کی درآمدات پر درآمدی محصولات عائد کرے گا۔

عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) نے گزشتہ سال امریکہ کو یہ اجازت دی تھی کہ وہ یورپی مصنوعات پر سات ارب 50 کروڑ ڈالر کا ٹیرف عائد کر سکتا ہے۔

امریکہ نے گزشتہ سال یورپی مصنوعات پر 25 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر یورپی یونین نے ردعمل دیتے ہوئے کسی قسم کے امریکی اقدام سے خبردار کردیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here