ڈیجیٹل پاکستان: ایف بی آر کو 76 فیصد ٹیکسز، ڈیوٹیز آن لائن موصول

پاکستان کسٹمز نے کل درآمدی ڈیوٹیز کا 18.6 فیصد الیکٹرانک ادائیگی کی صورت وصول کیا، درآمدات پر عائد ڈیوٹیز کا 22 فیصد الیکٹرانک طریقہ کار سے حاصل کیا

201

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کہا ہے کہ ٹیکس گزاروں کی جانب سے ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی الیکٹرانک ادائیگی کے رحجان اور اعتماد میں بہتری آئی ہے اور انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی الیکٹرانک طریقہ سے ادائیگی میں جاری مالی سال کی پہلی ششماہی میں گزشتہ سال کے مقابلہ میں 40.5 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے، الیکٹرانک طریقہ سے حاصل کردہ ٹیکسز کا تناسب 13.55 فیصد سے بڑھ کر 76.5 فیصد ہو گیا ہے۔

ایف بی آر کے ترجمان نے سوموار کو ایک بیان میں بتایا کہ ایف بی آر میں جاری اصلاحات کے تسلسل اور ادارے میں جدت لانے کی کوششوں کو بڑھاتے ہوئے ٹیکس ادائیگی کا الیکٹرانک طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے، نئے نظام کی بدولت تاجر ملک بھر میں قائم بارڈر سٹیشنز اور بندرگاہوں پر کسٹمز وی بوک کے ذریعے درآمدی ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی الیکٹرانک طریقہ سے ادائیگی کر سکتے ہیں اور ٹیکس گزار گھر بیٹھے قابل ادا انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بھی ادا کر سکتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ الیکٹرانک پے منٹ نظام کے ذریعے کسی بھی وقت تاجر اور ٹیکس گزار آن لائن طریقہ سے کسٹمز ڈیوٹیز اور ایف بی آر کے دیگر ٹیکسز بشمول صوبائی ٹیکسز اور سٹیمپ ڈیوٹی ادا کر سکتے ہیں، یہ سہولت انٹرنیٹ اور موبائل بینکنگ کے ذریعے بھی دستیاب ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

تعمیراتی شعبے کیلئے فکسڈ ٹیکس سکیم کی مدت میں 30 جون 2021ء تک توسیع

گوشوارے داخل کرنے والوں کی تعداد 23 لاکھ سے زائد، 43.6 ارب روپے ٹیکس جمع

ٹیکس سال 2021ء، انکم ٹیکس ریٹرن فارم کو آسان اور سادہ بنانے کیلئے کمیٹی تشکیل

ان کا کہنا تھا کہ ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی ادائیگی ملک بھر میں پھیلے ہوئے 16 ہزار کمرشل بینکوں کی 15 ہزار اے ٹی ایم مشینوں کے ذریعے بھی کی جا سکتی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ٹیکس گزاروں کا ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی الیکٹرانک ادائیگی کے رحجان اور اعتماد میں بہتری آئی ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی الیکٹرانک طریقہ سے ادائیگی کا تناسب پچھلے سال جولائی تا دسمبر 2019ء کے 6.26 فیصد سے بڑھ کر اس سال پہلے چھ ماہ میں 40.5 فیصد ہو گیا ہے۔ اسی طرح الیکٹرانک طریقہ سے حاصل کردہ ٹیکسز کا تناسب 13.55 فیصد سے بڑھ کر 76.5 فیصد ہو گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ الیکٹرانک طریقہ سے ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی ادائیگی کی اس سہولت سے تاجر اور دوسرے ٹیکس گزار کورونا وباء کے دوران مستفید ہوئے، پاکستان کسٹمز نے کل درآمدی ڈیوٹیز کا 18.6 فیصد الیکٹرانک ادائیگی کی صورت میں حاصل کیا، پچھلے چھ ماہ میں وی بوک (WeBOC) سے کلیئر شدہ 80 ہزار کنسائینمنٹس، جو کہ کل درآمدات کا 22 فیصد ہیں، ان پر عائد ڈیوٹیز الیکٹرانک طریقہ کار کے ذریعہ حاصل ہوئی ہیں۔

لاہور، کراچی، اسلام آباد اور پشاور جیسے بڑے کسٹمز سٹیشنز کے علاوہ درآمدکنندگان نے الیکٹرانک سہولت سے تافتان اور خنجراب جیسے دور دراز کے علاقوں میں بھی فائدہ اٹھایا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ تاجر اور ٹیکس گزار ٹیکس ادائیگی کے الیکٹرانک طریقہ کار کو ترجیح دے کر اپنی کاروباری لاگت کو کم کر سکتے ہیں کیونکہ اس طریقہ کار سے تجارتی آسانیاں فراہم کرنے میں بہتری آئی ہے، نہ صرف اس طریقہ کار سے اشیا کی تیزی سے کلئیرنس ممکن ہو پاتی ہے بلکہ ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی ادائیگی میں بھی شفافیت برقرار رہتی ہے۔

ترجمان ایف بی آر کے مطابق عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) بھی اپنے تجارتی سہولتی معاہدہ کے تحت الیکٹرانک طریقہ کار سے ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی ادائیگی کو فروغ دینے پر اصرار کرتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here