چھ ماہ میں برطانیہ سے ترسیلات زر میں 51 فیصد اضافہ

جولائی سے دسمبر 2020ء تک برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں نے ایک ارب 87 کروڑ 70 لاکھ ڈالر زرمبادلہ ارسال کیا جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں ایک ارب 23 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ارسال کیے تھے

292

اسلام آباد: برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر ملک ارسال کرنے کی شرح میں جاری مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 51.7 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے اس حوالہ سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی سے لے کر دسمبر 2020ء تک برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں نے ایک ارب 87 کروڑ 70 لاکھ ڈالر زرمبادلہ ارسال کیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے ایک ارب 23 کروڑ 70 لاکھ ڈالر سے 51.7 فیصد زیادہ ہے۔

سالانہ اعتبار سے دسمبر 2020ء میں برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں نے 32 کروڑ 69 لاکھ ڈالر زرمبادلہ ارسال کیا جبکہ گزشتہ سال دسمبر میں یہ حجم 28 کروڑ 63 لاکھ ڈالرتھا۔

یہ بھی پڑھیے: 

جاپان سے پاکستان کو ترسیلات زر میں 52.1 فیصد اضافہ

کینیڈا سے پاکستان کو ترسیلات زر میں 72 فیصد اضافہ

ملائیشیا سے پاکستان کو ترسیلات زر میں 18 فیصد کمی

2007ء کے بعد سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ

جاری مالی سال 2020-21ء کی پہلی ششماہی کے دوران ترسیلات زر گزشتہ سال کے اسی عرصہ کے مقابلے میں 25 فیصد اضافہ سے 14 ارب 20 کروڑ ڈالر رہیں اور یہ 2007ء کے بعد کسی ایک ششماہی میں ترسیلات زر کی سب سے زیادہ شرح ہے۔

سٹیٹ بینک کے مطابق سالانہ اعتبار سے دسمبر 2020ء کے دوران بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں نے دو ارب 40 کروڑ ڈالر پاکستان بھجوائے جو دسمبر 2019ء کے مقابلہ میں 16.2 فیصد زیادہ ہیں جبکہ ماہانہ لحاظ سے نومبر 2020ء کی نسبت 4.2 فیصد زیادہ ہیں۔

اعدادوشمار کے مطابق پہلی ششماہی کے دوران پاکستان کو سب سے زیادہ ترسیلات زر سعودی عرب میں مقیم ورکرز کی جانب سے بھجوائی گئیں جن کا حجم چار ارب ڈالر رہا، متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں نے تین ارب ڈالر وطن بھجوائے۔

واضح رہے کہ موجودہ حکومت کی جانب سے قانونی ذرائع سے ترسیلات زر کی حوصلہ افزائی کیلئے اقدامات اور ترغیبات کے نتیجہ میں جاری مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر ملک ارسال کرنے کی شرح میں گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں 24.9 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here