ایران نے امریکی، برطانوی ویکسین درآمد پر پابندی لگا دی

202
Iran's Supreme Leader Ayatollah Ali Khamenei delivers a televised speech, in Tehran, Iran January 8, 2021. Official Khamenei Website/Handout via REUTERS

دبئی: ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی نے مغربی طاقتوں کو ناقابلِ بھروسہ قرار دیتے ہوئے امریکہ اور برطانیہ سے کورونا ویکسین کی درآمد پر پابندی عائد کر دی۔

علی خامنائی نے اپنی ایک تقریر میں دونوں مغربی ممالک کے ساتھ طویل اختلافات کے باعث اسلامی جمہوریہ ایران کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ممکنہ طور پر دیگر ممالک میں وائرس کے پھیلاؤ کی کوششوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔

تاہم انہوں نے مزید کہا کہ ایران ‘دیگر قابلِ بھروسہ ممالک’ سے کووڈ ویکسین حاصل کر سکتا ہے، اس حوالے سے انہوں نے زیادہ تفصیلات نہیں بتائیں کہ ایران کن ممالک سے ویکسین حاصل کرے گا البتہ چین اور روس دونوں ایران کے اتحادی ہیں اور دونوں ممالک نے ویکسین تیار کر لی ہے۔

گو کہ مشرقِ وسطیٰ میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ ایران متاثر ہوا ہے، مگر سپریم لیڈر کا کہنا ہے کہ ایران کے لیے امریکہ اور برطانیہ سے ویکسین کی خریداری ممنوع ہے، دونوں ممالک مکمل طور پر ناقابلِ بھروسہ ہیں، ان دونوں ممالک کی جانب سے دوسری قوموں کو نقصان پہنچانے کا امکان ہے۔

خامنائی نے 1980 اور 1990 کی دہائی کے آلودہ بلڈ ڈونیشنز سکینڈل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فرانس کی ایچ آئی وی سے آلودہ بلڈ سپلائیز کا ہمارا تجربہ بہت تلخ رہا، فرانسیسی ویکسین بھی ہمارے لیے قابلِ بھروسہ نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

کیا روس کورونا وائرس کی ویکسین تیار کر چکا ہے؟

کورونا ویکسین لگوانے سے کتنی مدت کیلئے وائرس سے تحفظ مل سکے گا؟

ایران میں گزشتہ ماہ کے آخر میں کووڈ ویکسین کے انسانوں پر تجربات شروع کیےگئے تھے، اس حوالے سے ایرانی حکومت نے کہا تھا کہ امریکی پابندیوں کے باجود ایران وباء کو شکست دینے میں اپنی مقامی تیار کردہ ویکسین کو کارآمد ثابت کر سکتا ہے، امریکی پابندیوں کے باعث ایران ویکسین درآمد کرنے کا اہل نہیں ہے۔

واضح رہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں 2018ء سے اس وقت اضافہ ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ 2015ء کے جوہری معاہدے کو ختم کر کے پابندیاں دوبارہ سے عائد کر دی تھیں۔

جوہری معاہدے کے تحت ہٹائی گئی امریکی پابندیوں کے جواب میں تہران نے اس معاہدے کی متعدد خلاف ورزیاں کی، امریکی نو منتخب صدر جوبائیڈن نے الیکشن مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ اگر ایران معاہدے کی مکمل پاسداری کرتا ہے تو وہ 20 جنوری کو صدرات کا عہدہ سنبھالنے کے بعد دوبارہ سے ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

آیت اللہ خامنائی نے کہا ہے کہ تہران کو امریکہ کے ساتھ معاہدے میں دوبارہ سے داخل ہونے کی جلدی نہیں لیکن اسلامی جمہوریہ ایران پر عائد پابندیوں کو جلد ختم کرنا ہو گا۔

امریکہ اور دیگر بڑی طاقتوں نے خطے میں ایران کے اثرورسوخ کو محدود کرنے کا مطالبہ کیا تھا، ایرانی لیڈر نے تہران کے مزائل پروگرام اور مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی شمولیت پر کسی قسم کا سمجھوتا نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here