ایف بی آر، پہلی ششماہی میں ہدف کا 99.7 فیصد ٹیکس جمع

جولائی تا دسمبر 2020ء تک 2204 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا گیا جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 2101 ارب روپے ٹیکس جمع ہوا تھا

311

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) نے جاری مالی سال 2020-21ء کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) کے دوران 2204 ارب روپے ٹیکس جمع کیا جو مقررہ ہدف کا 99.7 فیصد ہے۔

پہلی ششماہی کے محصولات گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 2101 ارب روپے کے مقابلے میں پانچ فیصد زائد ہیں، انکم ٹیکس کی مد میں 816 ارب روپے ، سیلز ٹیکس 915 ارب، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 127 ارب،  کسٹمز ڈیوٹی 336 ارب اور بک ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 10 ارب روپے کا ریونیوحاصل کیا گیا۔

ترجمان ایف بی آر کے مطابق  دسمبر 2020ء کے دوران 508 ارب روپے کا ٹیکس جمع ہوا، جو مقرردہ ہدف 520 ارب روپے کا 97.7 فیصد اور دسمبر 2019ء کے مقابلہ میں 8.3 فیصد زیادہ ہے، پہلی ششماہی میں سے دسمبر میں ٹیکس آمدن کی شرح سب سے زیادہ رہی۔

ترجمان نے کہا کہ جولائی تا دسمبر ری فنڈز کی مد میں گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں 90 فیصد زائد ادائگیاں کی گئیں اور 102 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کیے گئے جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں 53 ارب روپے کے ری فنڈز جاری کئے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے: 

21 لاکھ 90 ہزار ریٹرنز فائل، 31 ارب روپے انکم ٹیکس جمع

رواں مالی سال 144ارب روپے کے ریفنڈز جاری کئے گئے، ایف بی آر

ایف بی آر ریفنڈز کی شفافیت پر پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کو تحفظات، آڈٹ کا حکم

20 لاکھ یا زائد کی پراپرٹی خریدنے پر ایف بی آر کو معلومات دینا لازم قرار

ترجمان کے مطابق وزیراعظم کورونا ریلیف پیکج کے تحت بھی 42 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کئے گئے، اتنی بڑی تعداد میں ریفنڈز جاری ہونے کے باوجود ایف بی آر نے پچھلے سال کے مقابلے میں خاطرخواہ ریونیو حاصل کیا ہے جبکہ پچھلے سال کورونا وبا کا وجو د بھی نہ تھا اور نہ ہی معاشی سرگرمیاں متاثر ہوئی تھیں، ریفنڈز میں اضافہ کی بدولت معاشی سرگرمیوں میں بہتری آئی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں سمگل شدہ اشیاء، جن کی مالیت 30 ارب روپے ہے، ضبط کی گئی ہیں جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 22 ارب روپے مالیت کی اشیاء ضبط ہوئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ طویل عرصہ بعد انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرنے کی آخری تاریخ نہیں بڑھائی گئی، 31 دسمبر 2020ء تک 23 لاکھ انکم ٹیکس ریٹرنز فائل ہوئے جبکہ 43.5 ارب روپے انکم ٹیکس جمع ہوا جو گزشتہ سال سے 55 فیصد زیادہ ہے، گزشتہ سال پہلی ششمالی میں 21 لاکھ 73 ہزار گوشوارے اور 28ارب روپے انکم ٹیکس جمع ہوا تھا۔

ترجمان نے کہا کہ ایف بی آر کاروباری آسانیوں کے لئے آٹومیشن اور ای آڈٹ کے لئے ہمہ وقت کوشاں ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے مینوفیکچررز کی آسانی کیلئے یک صفحاتی انکم ٹیکس گوشوارہ متعارف کرایا گیا۔ آئرس کو اپ گریڈ کیا ہے جس کے تحت ٹیکس افسر کی طرف سے جاری نوٹس کی اطلاع ٹیکس گزاروں کو ای میل اور ایس ایم ایس کے ذریعے بھی فراہم کی جاتی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ ایف بی آر نے معلومات ٹیکس رے سسٹم بھی متعارف کرایا ہے جو ٹیکس آسان ایپ پر بھی دستیاب ہے، اس محفوظ ایپ کے ذریعے ٹیکس گزار معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

ایف بی آر نے ہیڈکوارٹرز اور ملک کے تمام بڑے ٹیکس آفسز میں ٹیکس گزاروں کی شکایت کے ازالے اور کرپشن کے خاتمے کے لئے خصوصی کمیٹیاں بھی تشکیل دی ہیں۔ ٹیکس گزارہیلپ لائن، ای میل، کمپلینٹ پورٹل اور بذریعہ ڈاک اپنی شکایات بھیج سکتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here