20 لاکھ یا زائد کی پراپرٹی خریدنے پر ایف بی آر کو معلومات دینا لازم قرار

ایف بی آر نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کیلئے قواعد وضوابط جاری کر دئیے، پراپرٹی کی خریداری یا فروخت پر کیش ٹرانزیکشن رپورٹ محکمہ ٹیکس میں جمع کروانی ہو گی

274

لاہور: وفاقی بورڈ برائے ریونیو(ایف بی آر) نے پراپرٹی کی خریدوفروخت کے لیے 20 لاکھ روپے یا اس سے زیادہ مالیت کی ہر ٹرانزیکشن کی معلومات دینا لازمی قرار دے دیا۔

نجی ٹی وی چینل کی ایک رپورٹ کے مطابق ایف بی آر نے اینٹی منی لانڈرنگ (اے ایم ایل) اور کاؤنٹر ٹیررازم فنانسنگ (سی ٹی ایف) کے تحت رئیل اسٹیٹ ایجنسٹس کے لیے قواعد و ضوابط جاری کیے گئے ہیں، ان گائیڈ لائن کا مقصد فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی شرائط کو پورا کرنا ہے۔

عاطف مسعود عالمی رئیل اسٹیٹ گروپ دیار ہومز کے پروجیکٹ ’اسلام آباد ہلز ‘ کے سی ڈی او تعینات

ایف اے ٹی ایف: ’پاکستان فروری 2021ء تک گرے لسٹ میں شامل رہے گا‘

انسداد منی لانڈرنگ کیلئے فارن کرنسی اکائونٹ سے متعلق قواعدوضوابط جاری

ایف بی آر کی 31 دسمبر کو ٹیکس دفاتر رات 12 بجے تک کھلے رکھنے کی ہدایت

گائیڈ لائنز کے مطابق رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز اور ایجنٹس کو غیرمنقولہ جائیداد کی خریدوفروخت کے لیے ہر 20 لاکھ روپے یا اس سے زائد کی ٹرانزیکشنز کے لیے کرنسی ٹرانزیکش رپورٹ (سی ٹی آر) جمع کرانے کی ضرورت ہو گی۔ تاہم، اس مقصد کے لیے بینکوں کے ذریعے کسی بھی ٹرانزیکشن کو رپورٹ کرنا لازمی نہیں ہو گا۔

ایف بی آر کے مطابق اس اقدام کا مقصد منی لانڈرنگ کی روک تھام اور ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرنا ہے، کیونکہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کیش ٹرانزیکشنز کے ذریعے غیرقانونی طریقے سے کمائی گئی دولت کی سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here