عالمی ادارہ صحت نے بالآخر کورونا ویکسین کی منظوری دیدی

258

جنیوا: کورونا وباء شروع ہونے کے کم و بیش ایک سال بعد عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کورونا وائرس سے بچاو کےلئے امریکی کمپنی فائزر اور جرمن کمپنی بائیون ٹیک کی مشترکہ طور پر تیار کردہ ویکسین کے ہنگامی استعمال کی منظوری دے دی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈبلیو ایچ او نے کورونا وائرس کی وباء کے آغاز کے بعد پہلی بار اس ویکسین کی منظوری دی ہے، ڈبلیو ایچ او نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہنگامی استعمال کیلئے فائزر اور بائیون ٹیک ویکسین بہترین ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ دنیا کے متعدد ممالک نے کورونا ویکسین تیار کی ہے تاہم عالمی ادارہ صحت نے ابھی تک صرف فائزر اور بائیوٹیک کمپنیوں کے تیار کردہ ویکسین کو ہی تسلیم کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

پاکستان میں کورونا ویکسین کب دستیاب ہو گی؟

آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین دیگر کمپنیوں کی نسبت بہتر کیوں؟

پاکستان چینی کمپنی سے 12 لاکھ کووڈ ویکسینز خریدے گا

جنوری 2019ء میں دنیا کے متعدد ممالک میں کورونا وائرس کے آغاز کے بعد اب تک اس مہلک وباء سے 18 لاکھ  26 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور 8 کروڑ سے متاثر ہو چکے ہیں۔

نومبر 2020ء کے دوسرے ہفتے امریکی ادویہ ساز فائزر انکارپوریشن نے کہا تھا کہ اس کی تیار کردہ کورونا ویکسین حتمی نتائج میں وائرس سے بچائو میں 95 فیصد مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ فائزر کے مطابق اس نے 43 ہزار سے زائد رضاکاروں پر ویکسین کا تجربہ کیا تھا، 170 کورونا کیسز میں سے صرف آٹھ متاثرہ لوگوں کو ویکسین کی کاپی کی بجائے اصل ویکسین دی گئی اور نتائج کے مطابق ویکسین کے مؤثر ہونے کی شرح 95 فیصد رہی۔

دوسری جانب برطانیہ کی بڑی ادویہ ساز کمپنی آسٹرا زینیکا نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی ویکسین آزمائشی مرحلے سے گزرنے اور ایک عبوری جائزے میں 90 فیصد تک موثر پائی گئی ہے۔ روس اور چین کی کمپنیوں نے بھی ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم ابھی تک عالمی ادارہ صحت نے فائزر اور بیون ٹیک کی تیار کردہ ویکسین استعمال کرنے کی منظوری دی ہے۔

اس کے برعکس کچھ ممالک اپنے طور پر عالمی ادارہ صحت کی منظوری سے قبل ہی ویکسین کا استعمال شروع کر چکے ہیں، برطانیہ نے آسٹرازینیکا اور آکسفرڈ یونیورسٹی کی مشترکہ طور پر تیار کردہ ویکسین کے استعمال کی منظوری دی ہے جبکہ پاکستان ابتدائی طور پر چینی کمپنی سینو فارما کی ویکسین خریدنے کا عندیہ دے چکا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here