حکومت کا تعمیراتی شعبے کیلئے مزید مراعات کا اعلان

تعمیراتی سیکٹر کیلئے فکس ٹیکس رجیم میں 31 دسمبر2021ء، رئیل اسٹیٹ کے خریداروں کیلئے ذرائع آمدن بتانے کے حوالے سے 2023ء تک توسیع کر دی گئی

374

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے تعمیراتی شعبے کے لئے مزید مراعات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کم لاگت والے مکانات کے لئے پانچ سے سات فیصد شرح سود پر قرضے دیئے جائیں گے۔

جمعرات کو تعمیراتی شعبے کے لئے مزید مراعات کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ  186 ارب روپے کے منصوبے ایف بی آر کے پورٹل پر رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، پنجاب میں 136 ارب روپے کے تعمیراتی منصوبے شروع ہو چکے ہیں جبکہ تعمیراتی شعبے کے فروغ سے پنجاب میں 1500 ارب روپے کی اقتصادی سرگرمیاں شروع ہوں گی اور ان منصوبوں سے روزگارکے اڑھائی لاکھ مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں تعمیراتی شعبہ حکومتی مراعات سے مستفید ہو رہا ہے، کم آمدن والے طبقات کو ان منصوبوں سے رہائشی سہولیات میسر آئیں گی، تعمیراتی شعبے کے فروغ اور گھروں کے لئے فنانسنگ کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کر دی ہیں اور اب بینک گھروں کی تعمیر اور تعمیراتی منصوبوں کے لئے فنانسنگ کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: 

گھر بیٹھے تعمیراتی سامان منگوانے کیلئے پاکستانی سٹارٹ اپ متعارف

تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی، سیمنٹ کی فروخت میں 16.61 فیصد اضافہ

لاہور کے راوی اربن ڈویلپمنٹ پروجیکٹ میں آٹھ ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری متوقع

راوی اربن پروجیکٹ: ’دو لاکھ نوکریاں پیدا ہوںگی، 49 صنعتوں کو فروغ ملے گا

وزیراعظم نے کہا کہ بینکوں نے آئندہ سال کے لئے 378 ارب روپے کنسٹرکشن سیکٹر کے لئے مختص کئے ہیں، تنخواہ دار طبقے کے کم لاگت تعمیراتی منصوبے کے لئے بھی پیکج دیئے گئے ہیں، کم لاگت مکانات کے لئے پانچ سے سات فیصد شرح سود پر قرضے دیئے جائیں گے اور بینک ہر ممکن تعاون کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ کم لاگت کے گھروں کو 30 ارب کی سبسڈی دیں گے، یعنی پہلے جو ایک لاکھ گھر بنیں گے، ان میں سے فی گھر تین لاکھ روپے کی گرانٹ ملے گی تاکہ ان کا خرچ کم ہو، اور جو پیسہ وہ کرائے کے مکان میں رہنے پر خرچ کرتے تھے وہ گھر کی اقساط دینے پر چلا جائے گا۔

عمران خان نے کہا کہ بڑے شہروں کے نئے ماسٹر پلان بنائے جا رہے ہیں، ماسٹر پلان سے سیوریج اور پانی کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں گے، کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی ڈیجیٹلائزیشن اگست 2021ء تک مکمل کر لی جائے گی، تینوں بڑے شہروں میں سرکاری زمینوں کا ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کے لئے فکس ٹیکس رجیم میں 31 دسمبر 2021ء تک توسیع کر دی گئی ہے، اسی طرح منصوبوں کے اختتام کی مدت میں بھی 30 ستمبر 2023ء تک توسیع کر دی گئی ہے، خریداروں کے لئے سورس آف انکم بتانے کے حوالے سے بھی 2023ء تک توسیع کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سمارٹ لاک ڈاﺅن کی حکمت عملی انتہائی کامیاب رہی، کوویڈ کی صورت حال کی وجہ سے تعمیراتی شعبے میں حکومتی اقدامات کے اثرات آنے میں کچھ وقت لگا اس لئے حکومت نے پیکج میں توسیع دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت تعمیراتی شعبہ تیزی سے ترقی پا رہا ہے، سیمنٹ کی ریکارڈ فروخت ہوئی ہے، سریے کی فروخت میں بھی اضافہ ہوا ہے اور قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں، تعمیراتی سرگرمیاں ہر طرف شروع ہو چکی ہیں، ہماری حکومت نے ایسے وقت میں تعمیرات کا شعبہ کھولنے کا فیصلہ کیا جب پوری دنیا میں کورونا وائرس کی صورت حال کے باعث معیشت پر منفی اثرات تھے، پاکستان دوسرے ملکوں کی نسبت صورت حال سے زیادہ کامیابی سے نمٹا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت 60ء کی دہائی کے بعد پہلی دفعہ صنعتی فروغ کے لئے کام کر رہی ہے، حکومت نے صنعتوں کو اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پاکستان کے قرضے واپس کئے جا سکیں اور روزگار کے زیادہ مواقع میسر آئیں، اس سلسلے میں حکومت پوری طرح سپورٹ کرے گی اور اس راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا، حکومتی اقدامات کی بدولت پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عام آدمی کے لئے بھی اپنا گھر بنانا ممکن ہو سکے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here