پاکستان کریڈٹ کمپنی کے 51 فیصد شئیرز برطانوی کمپنی کو بیچنے کا فیصلہ

321

اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے وزارتِ خزانہ کی مخالفت کے باوجود سرکاری ملکیتی کمپنی کے 51 فیصد شئیرز برطانوی کمپنی کو فروخت کرنے کی منظوری دے دی۔

ای سی سی نے اپنے ایک اجلاس میں پاکستان کریڈٹ گارنٹی کمپنی (پی سی جی سی) کے 51 فیصد شئیرز برطانوی کمپنی کارانداز (Karandaaz) کو بیچنے کی منظوری دی تھی۔

کارانداز برطانیہ کے محکمہ برائے بین الاقوامی ترقی اور بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن کی ملکیتی کمپنی ہے، یہ کمپنی چھوٹے پیمانے پر کاروباروں کو قرضے دینے کے لیے بنائی گئی ہے۔

وزارتِ خزانہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ “ای سی سی نے پاکستان کریڈٹ گارنٹی کمپنی کے شئیر ہولڈنگ اسٹرکچر میں تبدیلی کی منظوری بھی دی ہے۔ نئے اسٹرکچر کے مطابق کمپنی میں حکومتِ پاکستان کے شئیرز کو 70 فیصد سے کم کر کے 49 فیصد تک محدود کر دیا گیا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان 2010ء سے برطانیہ کے محکمہ برائے بین الاقوامی ترقی (ڈی ایف آئی ڈی) کے اشتراک سے پاکستان میں سمال اینڈ رورل کمپنیوں کیلئے کریڈٹ گارنٹی اسکیمز کے انتظامات دیکھ رہا ہے۔

تاہم، ذرائع کے مطابق ای سی سی کا یہ فیصلہ ناصرف قانونی سوالات پیدا کر رہا ہے بلکہ اس معاہدے کی شفافیت پر بھی تحفظات سامنے آنے لگے ہیں۔

برطانیہ نے پاکستان میں چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کو 2008ء میں دو ارب روپے (50 ملین برطانوی پاؤنڈز) فراہم کیے تھے، جولائی 2008ء میں اسٹیٹ بینک، اقتصادی امور ڈویژن اور ڈی ایف آئی ڈی کے مابین مذکورہ معاہدے پر مشترکہ طور پر دستخط کیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے:

پاکستان مزید 1.7 ارب ڈالر کے قرضے موخر کروانے میں کامیاب

ویسٹرن یونین نے سعودی کمپنی ایس ٹی سی پے کے 15 فیصد شئیرز خرید لیے

کووِڈ-19 کے خلاف جنگ میں پاکستان نے 3.7 ارب ڈالر کی گرانٹس، قرضے وصول کیے

تاہم جنوری 2015ء میں پروگرام بند کر دیا گیا تھا جس کے بعد معاہدے کی ایک شق میں ترمیم کی گئی جس کے ذریعے تمام غیرخرچ شدہ فنڈز یا تو ڈی ایف آئی ڈی کو واپس کرنے تھے یا پھر ڈی ایف آئی ڈی کی کسی انٹرپرائز کو فراہم کرنے تھے۔

وزارتِ خزانہ کی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ ’’کسی بھی شق پر دستخط کرنے سے ایم او یو کے ساتھ پرائمری یا بنیادی معاہدے کو تبدیل کرنا غیرقانونی ہے۔‘‘

 وزارتِ خزانہ کے اگست 2020ء کے آفس ایم او یو میں کہا گیا ہے کہ “ڈی ایف آئی ڈی کا کریڈٹ گارنٹی اسکیم کے تحت دی گئی دو ارب روپے کی گرانٹس کو استعمال کرتے ہوئے پی سی جی سی کا شئیرہولڈر بننے کا ارادہ ہے کیونکہ ڈی ایف آئی ڈی کی پی سی جی سی میں ایکویٹی موجود ہے”۔

“خزانہ ڈویژن کا کہنا ہے کہ کہ اقتصادی امور ڈویژن، سٹیٹ بینک پاکستان اور ڈی ایف آئی ڈی کے درمیان طے پانے والا ایم او یو ایک گرانٹ پر مبنی معاہدہ تھا، یہ گرانٹس یکطرفہ ٹرانزیکشنز ہیں، انہیں لازمی طور پر استعمال کیا جانا چاہیے لیکن یہ ناقابلِ واپسی ہیں، اگر یہ اس مقصد کے لیے استعمال نہیں ہوتیں تو انہیں گرانٹ تصور نہیں کیا جائے گا۔‘‘

ابھی تک ای سی سی کو غیرملکی ایکویٹی کو گرانٹس میں تبدیل کرنے کے لیے منصوبہ بندی کرنی ہے، ذرائع نے بتایا کہ گرانٹس کو غیرملکی ایکویٹی میں تبدیل کرنے کے فیصلے سے حکومت کو مشکل درپیش ہو سکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here