یورپی یونین کی بلوچستان میں آبی تحفظ اور تعلیم کے منصوبوں کیلئے یورپی یونین 11 ارب امداد

164

اسلام آباد: یورپین یونین نے حکومتِ بلوچستان کی معاونت کے لیے آبی تحفظ، پانی تک رسائی میں بہتری، پرائمری اور مڈل سطح پر تعلیم کے مختلف منصوبوں کے لیے 11.1 ارب روپے امداد فراہم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

سیکرٹری برائے اقتصادی امور نور احمد اور پاکستان میں یورپی یونین کی سفیر اندرولا کمینارا (Androulla Kaminara) کی جانب سے حکومت بلوچستان کی معاونت کے دو نئے معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔

آبی تحفظ کا پانچ سالہ پروگرام 2021ء میں شروع ہو گا، اس پروگرام کی مدد سے بلوچستان کے بارانی علاقوں میں پانی کے مسائل پائیدار بنیادوں پر حل کیے جائیں، کم پانی سے زرعی پیداوار کو فروغ دیا جائے گا اور لوگوں کو لائیوسٹاک کی طرف منتقل کرنے کیلئے معاونت فراہم کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے:

پاکستان نے بالآخر یورپی یونین میں باسمتی چاول پر بھارتی دعویٰ چیلنج کر دیا

کورونا ویکسین خریدنے کیلئے پاکستان عالمی بنک سے 153 ملین ڈالر امداد لے گا

امدادی پروگرام میں کسانوں کو پانی زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی صورت میں مراعات دی جائیں گی اور زرعی زمینوں کے مربوط انتظامات کی صورت میں لائیو سٹاک سیکٹر کی مشکلات دور کرنے سے پسماندہ کسانوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس عمل سے نہ صرف پانی کی قلت کے مسائل کو دور کیا جائے گا بلکہ اس کے بہتر انتظام سے پیداوار بھی بڑھے گی۔

اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کی جانب سے مقامی شراکت داروں کے تعاون سے پروگرام پر عملدرآمد کرایا جائے گا۔

مزید برآں یورپین یونین بلوچستان میں تعلیمی نظام کو مضبوط کرنے کے لیے 3.4 ملین روپے کے فنڈز فراہم کرے گی۔ بلوچستان ایجوکیشن سپورٹ پروگرام-2 صوبے کے تمام بچوں کو بنیادی اور معیاری تعلیم تک رسائی یقینی بنانے کے لیے کام کرے گا۔

چار سالہ پروگرام پر یونیسیف کی جانب سے عملدر آمد کیا جائے گا، اس پروگرام میں سکولوں کی ترقی کی منصوبہ بندی میں مقامی کمیونٹی بھی شامل ہو گی جس کے ذریعے اساتذہ کی تربیت اور تعلیمی اداروں کو بہتر بنانے کے لیے مدد ملے گی۔

کورونا وائرس کے پیش نظر ایس او پیز کو مدنظر رکھتے ہوئے اس تعلیمی پروگرام کے تحت سکولز کھولے اور چلائے جائیں گے جبکہ کچھ اضلاع میں کورونا کی وجہ سے بڑی تعداد میں سکولوں سے ڈراپ آؤٹ ہونے والے بچوں کی دوبارہ سے انرولمنٹ اور حاضری کو برقرار رکھنے پر توجہ دی جائے گی۔

یہ بھی مدِنظر رہے کہ بلوچستان پاکستان کے ماحولیاتی تبدیلی کا شکار ہونے والے ہائی رسک علاقوں میں شامل ہے، جس سے لوگوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here