نئے سال سے قبل چینی مصنوعات پر اضافی محصولات، وائٹ ہائوس کا موقف کیا ہے؟

216

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت میں چین امریکا تجارتی جنگ سے اربوں ڈالر کا نقصان دونوں ممالک کو ہی ہوا لیکن پھر بھی یہ دونوں ایک دوسرے کی مصنوعات پر کئی گنا اضافی ٹیکس عائد کرنے سے باز نہیں آئے۔

تاہم اب وائٹ ہاﺅس کے اقتصادی مشیر لیری کڈلو نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آئندہ ماہ جنوری میں جوبائیڈن کے اقتدار سنبھالنے سے قبل چینی مصنوعات پر اضافی محصولات عائد کرنے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق لیری کڈلو نے گزشتہ روز امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے زیراہتمام منعقدہ ایک تقریب کے دوران کہا کہ ہم چینی مصنوعات پر اضافی محصولات عائد نہیں کر رہے لیکن تجارتی مذاکرات کے لیے چین کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین سویابین کی طرح زرعی مصنوعات کے مخصوص ہدف کی خریداری سمیت ابتدائی تجارتی معاہدے پر قائم ہے اور اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین تجارتی معاہدے کے پہلے مرحلے کے ایک حصے سے گریز کر رہا ہے جو شاید کورونا وائرس کی صورت حال کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کی چینی مصنوعات پر عائد کردہ اضافی محصولات فوری طور پر نہیں ہٹائیں گے بلکہ اقتدار کی منتقلی کے بعد وہ پہلے امریکی کارکنوں اور صنعت پر سرمایہ کاری پر توجہ دیں گے۔

وائٹ ہاﺅس کے اقتصادی مشیر کے بقول “ہمارے خدشات کے پیش نظر امریکا میں دیگر ممالک کی کمپنیوں اور اداروں کے غیرمعمولی نقصان کو روکنے کے لئے نئے قوانین، اداروں اور عدالتوں کے قیام کے سلسلے میں کچھ مثبت تحریک کی ضرورت ہے۔”

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here