پاکستان میں سالانہ کتنے کروڑ موبائل فون فروخت ہوتے ہیں؟

ڈی آئی آر بی ایس سسٹم کے اطلاق کے بعد موبائل فونز کی سمگلنگ کا خاتمہ، ٹیکس آمدن 22 ارب سے بڑھ کر 54 ارب روپے ہو گئی، موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی کے نفاذ کے حوالے سے اجلاس میں بریفنگ

320

اسلام آباد: وزارت صنعت و پیداوار نے کہا ہے کہ موبائل فون کے حوالے سے پاکستان ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے، ملک میں سالانہ تقریبا چار کروڑ موبائل فونز کی خریدوفروخت ہوتی ہے۔

جمعہ کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی کے نفاذ کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیرِ صنعت و پیداوار حماد اظہر، مشیرِ تجارت عبد الرزاق داؤد، مشیرِ خزانہ عبد الحفیظ شیخ، مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین، معاونِ خصوصی ڈاکٹر وقار مسعود، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ عاطف بخاری، چیئرمین ایف بی آر جاوید غنی، چیئرمین پی ٹی اے عامر عظیم باجوہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی کے نفاذ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی، اجلاس کو بتایا گیا کہ موبائل فون کے حوالے سے پاکستان ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے اور ملک میں سالانہ تقریبا چار کروڑ موبائل فونز کی خریدوفروخت ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

درآمدی موبائل فونز پر ڈیوٹیز کی مد میں 54 ارب روپے آمدن

ای سی سی کا اجلاس، موبائل فونز کی مقامی طور پر مینو فیکچرنگ کیلئے پالیسی منظور

تین ماہ میں پاکستانیوں نے 49 کروڑ 20 لاکھ ڈٓالر کے مہنگے موبائل فون درآمد کر لیے

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ڈی آئی آر بی ایس سسٹم کے اطلاق کے بعد ملک سے موبائل فونز کی سمگلنگ کا خاتمہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے ٹیکس آمدن 22 ارب سے بڑھ کر 54 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔

وزارت صنعت و پیداوار کے مطابق اس سسٹم کے اطلاق کے بعد اب کئی انٹرنیشنل کمپنیاں پاکستان میں مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ کے لئے بھی دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں۔

اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا مقصد ملک میں صنعتی پیداوار کو بڑھا نا ہے، انہوں نے ہدایت کی کہ بیرونی سرمایہ کاری اور صنعتکاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے اور تمام ممکنہ سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ صنعت کاری کے شعبے میں ترقی سے ملکی آمدنی میں اضافہ ہو گا اور لوگوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر ہوں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال (2019-20ء) کے دوران بیرون ملک سے موبائل فون درآمد کرنے پر پاکستان کسٹمز نے رجسٹریشن کی  مد میں 54 ارب روپے وصول کیے ہیں، یہ ریونیو سال 2018-19 کی نسبت 145 فیصد زائد ہے۔

فیڈرل بورڈ برائے ریونیو (ایف بی آر) کے مطابق پاکستان کسٹمز نے پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی (پی ٹی اے) کے اشتراک سے ڈیوائس آئیڈنٹی فکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم (ڈی آئی آر بی ایس) متعارف کروایا ہے تاکہ بیرون ملک سے درآمد شدہ موبائل فونز کی رجسٹریشن کی جا سکے۔

اس نظام کی بدولت کوئی بھی نان ڈیوٹی پیڈ یا سمگل شدہ فون پاکستان میں واجب الادا ٹیکسز کی ادائیگی اور پی ٹی اے سے رجسٹریشن کے بغیر استعمال نہیں ہو سکتا۔

ایف بی آر کے مطابق سال 2019-20ء میں بھی پاکستان کسٹمز نے اس نظام کی بدولت 54 ارب روپے کا ریونیو حاصل کیا ہے، ان کامیاب اقداما ت کی وجہ سے ملک بھر میں سرمایہ کاری کو فروغ ملا ہے اور اب 17 کمپنیاں پاکستان میں موبائل فونز تیار کرنے پر غور کر رہی ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here