کوئٹہ میں گیس فراہمی کیلئے ایک ارب روپے کا پیکج منظور

251

لاہور: وفاقی حکومت نے کوئٹہ میں 40 سال پرانی گیس پائپ لائن کی تبدیلی کے لیے ایک ارب روپے پیکیج کی منظوری دے دی جس سے کوئٹہ میں گیس کے کم پریشر کے مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔

گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے کوئٹہ کے لیے ایک ارب روپے پیکیج کا اعلان کیا، اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری برائے کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کیو ڈی اے)، اربن ڈویلپمنٹ مبین احمد خلجی اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے جنرل مینجر مدنی صدیقی بھی موجود تھے۔

ایک رپورٹ کے مطابق کوئٹہ اور اس کے اطراف میں 1980ء میں گیس پائپ لائنز بچھائی گئی تھیں جنہیں آج تک تبدیل نہیں کیا گیا تاہم اب ان پائپ لائنز کو بالترتیب 16، 12،8،6 ڈایا میٹر کی پائپ لائنز سے تبدیل کیا جائے گا جن کی مجموعی لمبائی 57 کلومیٹر بنتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

ای سی سی اجلاس، پاکستان سٹیل ملز کو گیس فراہمی کیلئے گرانٹ منظور

سردیوں میں قلت سے بچنے کیلئے حکومت کو کتنی ایل پی جی گیس درآمد کرنی ہو گی؟

قاسم سوری نے کہا کہ گیس پائپ لائن تبدیل کرنے کا یہ منصوبہ ستمبر 2021 تک مکمل کر لیا جائے گا جس کے بعد کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں گیس پریشر کم ہونے کے مسائل مستقل حل ہو جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں وقت کےساتھ قدرتی گیس کے ذخائر کم ہو رہے ہیں اور اس وقت 26 فیصد لوگ قدرتی گیس جبکہ 74 فیصد لوگ ایل پی جی استعمال کر رہے ہیں۔

ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ  کی رہائش میں بھی ایل پی جی ہی استعمال کی جا رہی ہے، اگر ملک میں قدرتی گیس کے نئے ذخائر دریافت نہیں ہوتے تو صرف ایل پی جی ہی استعمال کے لیے دستیاب ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان میں 75 ارب روپے مالیت کے منصوبوں کی تکمیل کیلئے کام کر رہی ہے، گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ زیرِ تعمیر ہے جبکہ تربت ائیرپورٹ کی توسیع کا کام بھی جلد شروع کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here