مقامی پروازوں میں کھانا نہیں ملے گا لیکن کرایہ پرانا ہی دینا ہو گا

227

کراچی: سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کورونا وائرس پھیلاؤ کے پیش نظر مقامی پروازوں میں کھانا فراہم کرنے پر پابندی عائد کر دی۔

مقامی پروازوں میں کھانا فراہم کرنے پر پابندی چارٹرڈ اور نجی پروازوں پر عائد کی گئی ہے۔ کورونا ایس او پیز کے مطابق دورانِ پرواز کیبن کریو اور مسافروں کے لیے کورونا سے بچاؤ کے لیے ماسک پہننا لازم قرار دیا گیا ہے۔ اس پابندی سے پہلے مسافر کھانے کے لیے ماسک اتار دیتے تھے جس کے باعث کورونا پھیلنے کا خدشہ درپیش تھا۔

ایک تخمینے کے مطابق فی مسافر 200 روپے سے 300 روپے کے قریب کھانے کی لاگت آتی ہے، تمام پہلوؤں کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) کو کھانا نہ فراہم کرنے سے یومیہ دو لاکھ روپے، ایک ہفتے میں 14 لاکھ اور چھ مہینے میں 60 لاکھ روپے کی بچت ہو گی۔

یہ بھی پڑھیے:

پی آئی اے کا عمرہ پالیسی کا اعلان

پی آئی اے کی نو ماہ کی مالیاتی کارکردگی کے نتائج جاری ، بھاری نقصان

تاہم ترجمان پی آئی اے عبداللہ خان نے پرافٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کھانے کی لاگت حقیقی پیداوار، فلائٹ کچن سیٹ اپ کی لاگت، کھانے کی ترسیل اور دیگر متفرق اخراجات کی بنیاد پر ہوتی ہے، صرف خوراک کی پیداوار بند کی گئی ہے، باقی فیصلوں پر غور کر رہے ہیں۔ کرائے سے 200 روپے کٹوتی کرنا کچھ معنی نہیں رکھتا۔

انہوں نے کہا کہ اس کا امکان نہیں ہے کہ پی آئی اے یا دوسری پروازیں کھانوں پر پابندی کی وجہ سے اندرون ملک کرایوں میں کمی کریں گی۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں کئی ائیر لائنز لاگت بچانے کے لیے کھانے فراہم نہیں کرتیں، عبداللہ خان نے کہا کہ پی آئی اے پروازوں میں فوڈ کے تیارکردہ پیکٹ فراہم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں جس میں ایک سینڈوچ، جوس اور پانی کی ایک بوتل شامل ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here