ایس ایم ایز کی ٹیکس ادائیگی کیلئے یک صفحاتی ریٹرن فارم جاری

171

اسلام آباد: وفاقی بورڈ برائے ریونیو (ایف بی آر) نےچھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کے لیے 50 ملین روپے سے زائد کے ٹرن اوور پر مشتمل یک صفحاتی انکم ٹیکس ریٹرن فارم متعارف کرا دیا۔

ایف بی آر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مذکورہ ٹیکس ریٹرن فارم پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پرال) کے اشتراک سے جاری کیا گیا ہے، یہ سہولت انفرادی اور ایسوسی ایشن آف پرسنز (اے او پیز) حاصل کرسکتے ہیں۔

“یہ ریٹرن آئی آر آئی ایس پورٹل پر دستیاب ہو گا اور ٹیکس سال 2020 کے دوران ٹیکس دہندگان کی فہرست میں شامل ہونے والے کاروباروں کو اپنی سرگرمیوں سے متعلق بنیادی معلومات دینا لازمی ہو گا”۔

ایف بی آر نے کہا کہ وزیراعظم کے ویژن اور معاونِ خصوصی برائے ریونیو کے مطابق بورڈ نے قواعدوضوابط آسان بنا کر ٹیکس دہندگان کو سہولیات دینے کے لیے کئی اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

ایف بی آر مسلسل تیسرے ماہ ٹیکس ہدف حاصل کرنے میں ناکام

ٹیکس دہندگان کے شناختی کارڈ، دیگر تفصیلات کی تصدیق کیلئے ایف بی آر کا نادرا کیساتھ اشتراک

ایف بی آر کے بیان میں کہا گیا کہ اسی طرح ایف بی آر نے پرال کی مدد سے اپنے آئی آر آئی ایس سسٹم کو اپ گریڈ کیا ہے جب بھی ٹیکس آفیسر کی جانب سے کسی نوٹس یا کسی اسائنمنٹ کو جاری کرنا مقصود ہو تو وہ احکامات کو بذریعہ ایس ایم ایس اور ای میلز جاری کرے گا۔

اس سے قبل، ٹیکس دہندگان کو ایسی پیشرفت کا صرف اس صورت میں پتا چلتا تھا جب وہ آئی آر آئی ایس پورٹل پر لاگِن کرتے تھے۔

آئی آر آئی ایس سسٹم اپ گریڈ کرنے کے بعد ٹیکس دہندگان کو سہولیات دینے کے ماحول کے ساتھ تعمیل کو بہتر کرناہے جس کا مقصد ٹیکس دہندگان اور انٹرمیڈیریز کو ایس ایم ایس اور ای میلز کے ذریعے نوٹی فکیشن موصول کرنا ہے، جس سے تعمیل آسان اور تیز تر ہو گی۔

“ایف بی آر نے ‘معلومات ٹیکس رے’ کا ایک ایسا نظام شروع کیا ہے جہاں ٹیکس دہندگان کو ایک محفوظ طریقہ کار میں لاگ ان کرنے سے ایف بی آر کے یک صفحاتی سسٹم پر ہر طرح کی معلومات تک رسائی ہو سکتی ہے”۔

بیان میں کہا گیا کہ مزید سہولیات کے لیے یہ فیچر ٹیکس آسان کے نام سے موبائل ایپ میں شروع کیا گیا ہے تا کہ ٹیکس دہندگان کو تمام ایسی معلومات تک رسائی ہو سکے۔ “ایف بی آر اعلیٰ سطح کی ٹیکس سہولیات اور انوویٹو ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے ادارے کو آسان بنانے پر یقین رکھتا ہے”۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here