چینی کمپنی کی گوادر فری زون میں پاور پلانٹ لگانے کیلئے لائسنس کی درخواست

چائنا اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی گوادر فری زون میں 8.75 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لئے ڈیزل سے چلنے والا پاور پلانٹ لگائے گی

156

اسلام آباد: چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت گوادر معاشی سرگرمیوں کا مرکز بن رہا ہے اور یہاں تیزی سے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے جن میں سڑکیں، سٹوریج ہائوسز، گوادر ائیرپورٹ اور بجلی کے چھوٹے بڑے منصوبے شامل ہیں۔

چین کی چائنا اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی (سی او پی ایچ سی) نے گوادر فری زون میں 8.75 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا پاور پلانٹ لگانے کے لئے لائسنس کے حصول کے لئے نیپرا کو درخواست دے دی ہے۔

چائنا اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گوادر فری زون میں 8.75 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لئے ڈیزل سے چلنے والا پاور پلانٹ لگایا جائے گا۔

کمپنی نے کہا ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران پاکستان کی معاشی کارکردگی میں نمایاں بہتری ہوئی ہے اور گہرے پانیوں کی بندرگاہ گوادر کے آپریشنل ہونے سے آئندہ سالوں کے دوران پاکستان کی معاشی ترقی میں مزید اضافہ ہو گا۔

واضح رہے کہ چائنہ اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ نے 16 مئی 2013ء کو گوادر پورٹ اور گوادر فری زون کا چارج سنبھالا تھا اور کمپنی 40 سال تک دونوں منصوبوں کو چلائے گی۔

گوادر بندرگاہ کے قیام سے لینڈلاک وسطی ایشیائی ممالک کے علاوہ پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کی تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here