شوگر ملز کو گنے کی قلت کا سامنا، مالکان کا ملیں بند کرنے پر غور

48

اسلام آباد: پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) نے کہا ہے کہ انہیں خام مال کی قلت کی وجہ سے سخت مشکلات کا سامنا ہے اور اگر ایسی ہی صورتحال رہی تو ایک ہفتے کے اندر ان کے آپریشنز بند ہو سکتے ہیں۔

چئیرمین پی ایس ایم اے سکندر خان نے وزیر صنت و پیداوار حماد اظہر کو ایک خط میں لکھا ہے کہ کسانوں کی جانب سے گنے کی قیمتیں بڑھانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جس کی وجہ گنے کی قلت پیدا ہو رہی ہے، کسان گنے کی سپلائی روک کر حالات کو اپنی مرضی سے قابو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایسوسی ایشن نے اپنے خط کی کاپیاں وزیر خوراک فخر امام اور معاون خصوصی مرزا شہزاد اکبر کو بھی ارسال کی ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں شوگر ملز نے حکومت کی ہدایات کے مطابق کرشنگ سیزن کا آغاز کر دیا ہے تاہم کاشتکاروں نے کئی علاقوں میں گنے کی کٹائی شروع ہی نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیے:

بزدار حکومت کے اہم فیصلے، گنے کی امدادی قیمت 200 روپے مقرر

کسانوں کا گنے کی غیر قانونی خریداری کرنے والے مافیا کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ

تاخیر کی وجہ سے شوگر ملز کسانوں کو 11 فیصد مارک اپ کیساتھ ادائیگیاں کریں

خط میں کہا گیا ہے کہ کسان حکومت کی جانب سے گنے کی فی من 200 روپے مقرر کردہ قیمت سے بھی زیادہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ گنے کی سپلائی کے حالیہ بحران کی وجہ سے خدشہ ہے کہ ایک ہفتے کے اندر شوگر ملرز اپنے یونٹس بند کرنے پر مجبور نہ ہو جائیں۔

ایسوسی ایشن نے وفاقی وزراء سے معاملے میں مداخلت کرنے کی درخواست کی ہے، انہوں نے کہا ہے کہ حکومت کے طے کردہ نرخوں پر معمول کے مطابق گنے کی سپلائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ صارفین کو سستے نرخوں پر چینی فراہم کی جا سکے۔

پی ایس ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ گنے کی زائد قیمت سے چینی کی پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہو گا جس سے ملک میں چینی مزید مہنگی ہو گی اور قیمتیں بڑھانے کا الزام شوگر ملز پر عائد کر دیا جائے گا۔

پرافٹ اردو سے گفتگو میں وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا ہے کہ پنجاب میں گنے کی بالکل قلت نہیں، جب حکومت شوگر ملز کے ساتھ چینی کی زائد قیمتوں پر مذاکرات کرتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ قیمتوں میں اضافے کی وجہ طلب و رسد کا نتیجہ ہے لیکن جب کسانوں کے لیے گنے کی قیمتوں کی بات آتی ہے تو بھی شوگر ملرز یہی وجہ پیش کرتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here