’1990ء کے بعد پہلی بار فیصل آباد کی ٹیکسٹائل انڈسٹری مکمل بحال‘

سالوں سے بند پڑی 50 ہزار پاور لومز چل پڑیں، مزید 30 ہزار نئی لومز لگنے کے امکانات، دو لاکھ مزدوروں کی کمی کا سامنا، روزگار کے بے شمار مواقع پیدا

796

فیصل آباد: چیئرمین آل پاکستان کاٹن پاور لومز ایسوسی ایشن رانا اظہر وقار نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے خصوصی ٹیکسٹائل پیکج سے فیصل آباد میں 1990ء کے بعد پہلی بار ٹیکسٹائل انڈسٹری مکمل طور پر بحال ہو گئی ہے، 50 ہزار بند پاور لومز چل پڑیں ہیں جبکہ مزید 30 ہزار نئی لومز لگنے کے امکانات بھی روشن ہو گئے ہیں۔

صنعتکاروں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایکسپورٹرز کو بڑی تعداد میں غیرملکی آرڈرز مل رہے ہیں جس سے ٹیکسٹائل سیکٹر کی بحالی یقینی ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

حکومت کا صنعتی شعبے کیلئے سستی بجلی کے پیکج کا اعلان

فیصل آباد میں انفراسٹرکچر منصوبوں کیلئے13 ارب کا پیکج

اکتوبر میں بھی پاکستان ٹیکسٹائل برآمدات میں بھارت، بنگلہ دیش سے آگے رہا

چین، بھارت کے بجائے بڑے عالمی برانڈز پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری کا رُخ کیوں کر رہے ہیں؟

اظہر وقار نے کہا کہ 50 ہزار پاور لومز کے چلنے کی وجہ سے دو لاکھ سے زائد مزدوروں کی کمی کا سامنا ہے، ان دو لاکھ مزدوروں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے بحران کے باعث دنیا بھر میں ٹیکسٹائل سیکٹر بھی بری طرح متاثر ہوا ہے مگر پاکستان میں حکومتی اقدامات کی بدولت کورونا پر کافی حد تک قابو پایا گیا ہے اسی لیے پاکستانی ایکسپورٹرز کو ٹیکسٹائل سیکٹر کے بے شمار آرڈر ملنا شروع ہو گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ برآمدات بہتر ہونے اور صنعتوں کیلئے بجلی کی بلاتعطل فراہمی جیسے اقدامات کی بدولت فیصل آباد میں بند پاور لومز کے چلنے کے ساتھ ساتھ مزید 30 ہزار پاور لومز لگنے کا امکان ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here