پاکستانی زرعی ماہرین نے کیلے کی دو نئی اقسام تیار کر لیں

534

اسلام آباد: پاکستان کے ایپکس ایگریکلچرل ریسرچ انسٹیٹیوشن کے ماہرین نے کیلے کی دو نئی اقسام تیار کرلیں، کیلے کی دونوں اقسام کی کاشت صوبہ سندھ میں کی جائے گی۔

چئیرمین پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پارک) ڈاکٹر محمد عظیم خان نے کہا ہے کہ “کیلے کی دونوں نئی اقسام  NIGAB-1 اور NIGAB-2 سے ملک میں کیلے کی پیداوار میں اضافہ ہو گا جس سے برآمدات کے ہدف کےساتھ ساتھ ملکی ضروریات کو پورا کرنے میں مزید مدد ملے گی”۔

انہوں نے NIGAB کی اقسام تیار کرنے والے زرعی ماہرین کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کیلے کی پیداوار میں بڑی اہم کامیابی حاصل کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کیلے کی نئی اقسام پارک کے نیشنل انسٹیٹیوٹ برائے جینامک اینڈ ایڈوانس بائیوٹیکنالوجی (نگاب) میں تیار کی گئیں، جہاں ٹشو کلچر سے ابھی تک بیماری سے پاک تین لاکھ پودے پیدا کیے جا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: 

کیلے اور آلو کی تجارتی مقاصد کیلئے کاشت، ایگریکلچر ریسرچ کونسل نے نئی اقسام متعارف کروا دیں

زرعی ٹریکٹروں کی فروخت میں نمایاں اضافہ

آئل سیڈز کی کاشتکاری کو فروغ دیکر پاکستان درآمدی بل میں چار ارب ڈالر کمی لا سکتا ہے

پاکستان میں تیار کیے گئے نئی اقسام کے کیلوں کو عام کیلوں کی نسبت زیادہ دیر تک محفوظ کیا جاسکتا ہے، جس وجہ سے ان کیلوں کی افادیت اور بھی زیادہ ہے، نئی اقسام کے کیلوں کی پیداوار عام کیلوں کی نسبت زیادہ ہے۔

اعدادوشمار سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان بھر میں 80 ہزار ایکڑ سے زائد زمین پر کیلا کاشت کیا جاتا ہے۔ تاہم، اقوامِ متحدہ کے ماتحت کام کرنے والی تنظیم فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے مطابق چین اور بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے فی ایکٹر کیلے کی پیداوار کم ہے، دونوں ممالک کے فی ایکڑ کیلے کی پیداوار 10 ٹن سے زائد ہے۔

دنیا بھر میں پھلوں کی برآمدات میں سب سے زیادہ کیلا برآمد کیا جاتا ہے جس کی برآمدات کا حجم سالانہ 10 ارب ڈالر ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں ہزاروں دیہاتیوں کی آمدن کا زیادہ تر انحصار بھی اسی پھل پر ہوتا ہے۔

تاہم، ایگروکیمیکل کی زائد پیداوار نے کئی ماحولیاتی اور سماجی مشکلات پیدا کی ہیں، جس کے ساتھ پیداکنندگان کی قیمتوں میں بھی کمی آئی ہے۔

ایف اے او نے کیلوں اور ٹروپیکل فروٹس کی عالمی پیداوار میں 2019 سے 2028 کے درمیان 1.8 اضافے کی پیشگوئی کی گئی ہے، گزشتہ دہائی میں مذکورہ پھل کی سالانہ پیداوار 2.3 فیصد ریکارڈ ہوئی تھی۔ اس بنیادی منظرنامے کے تحت مذکورہ پیداوار 2028 تک 255 ملین ٹن سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here