کیلے اور آلو کی تجارتی مقاصد کیلئے کاشت، ایگریکلچر ریسرچ کونسل نے نئی اقسام متعارف کروا دیں

159

اسلام آباد: پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) میں نئی اقسام کے آلو اور کیلوں کی کاشت کاری کی تجویز پر تبادلہ خیال کے لیے ورائٹی ایویلیوایشن کمیٹی (وی ای سی) کا اجلاس منعقد ہوا۔

چئیرمین پارک ڈاکٹر محمد عظیم خان کی زیرصدارت کمیٹی کے اجلاس میں چھ اقسام کے آلو اور دو اقسام کے کیلے کی کاشت کو فروغ دینے کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کے ممبر پلانٹ سائنسز اور چئیرمین وی ای سی ڈاکٹر غلام محمد علی کے ساتھ ساتھ نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سسٹم (این اے آر ایس) اور نجی سِیڈ کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

چئیرمین پی اے آر سی نے ملک کے زرعی شعبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے نجی سیکٹر کو پی اے آر سی کے سائنسدانوں کے ساتھ انکے افکار کا تبادلہ کرنے پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھیے:

زراعت کیلئے 50 ارب کی سبسڈی رکھی: حکومت کا اسمبلی میں جواب

وزیر اعظم کی زرعی شعبہ کی بہتری، پیداوار میں اضافہ کیلئے ایکشن پلان پیش کرنے کی ہدایت

چیئرمین پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل نے زور دیا کہ ملکمیں زرعی شعبے کی ترقی کیلئے نجی سیکٹر کو اپنی مہارت ایگری ریسرچ کونسل کے ساتھ شئیر کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ کسان کے ذرائع آمدن میں اضافہ کرنے، عالمی اور علاقائی سطح پر زراعت کے میدان میں مسابقتی دوڑ کا حصہ بننے کیلئے ایسی ہی متنوع اور زیادہ پیداوار کی حامل اجناس متعارف کرانے کی اشد ضرورت ہے۔

اس موقع پر پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کے کورآڈی نیٹر برائے ہارٹی کلچر محمد فارق چوہدری نے اجلاس کے شرکاء کو آلو اور کیلے کی نئی متعارف کرائی جانے والی اقسام کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔

انہوں نے بتایا کہ کیلئے کی دونوں نئی اقسام NIGAB-1 اور NIGAB-2 اس سے پہلے ملک میں دستیاب کیلوں کی قسم سے غذائیت کے اعتبار سے بالکل مختلف ہیں جبکہ کسٹمرز کا رجحان بھی زیادہ انہی اقسام کی جانب ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آلو کی ایسی قسم متعارف کرائی گئی ہے جو بدترین  موسمی حالات اور بیماریوں کا مقابلہ کر سکتی ہے اور اسکی قوت مدافعت پہلے مروجہ اقسام سے کہیں بہتر ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here