رواں مالی سال پاکستان کی شرح نمو کیا رہے گی؟ سٹیٹ بینک کا نیا تخمینہ جاری

105

کراچی: سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے ملکی ترقی کی شرح نمو کے آؤٹ لک کو بہتر قرار دیتے ہوئے مالی سال2021ء میں ملکی جی ڈی پی کی شرح میں 1.5 فیصد سے 2.5 فیصد کے درمیان رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔

مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2021ء میں برآمدات کا حجم 23.4 ارب ڈالر سے 23.8 ارب ڈالر کے درمیان رہنے کی توقع ہے جو مالی سال 2020ء میں برآمدات کے حجم 22.5 ارب ڈالر سے کچھ زیادہ ہے۔

اسی طرح سٹیٹ بینک نے توقع ظاہر کی ہے کہ لاک ڈاؤن ختم ہونے سے معاشی سرگرمیوں میں اضافے اور کارخانوں کی جانب سے انوینٹریز کو پورا کرنے کی کوشش سے درآمدات گزشتہ مالی سال کی نسبت زیادہ رہیں گی، خاص کر جاری مالی سال 2020-21ء میں تعمیراتی صنعت اور ہاؤسنگ فنانس کی بحالی سے سٹیل کی درآمدات میں بڑھنے کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

پاکستان کا کرنٹ اکائونٹ مسلسل چوتھے ماہ سرپلس

معاشی بہتری کے اعشارے، مسلسل پانچویں ماہ ترسیلات زر 2 ارب ڈالر سے زائد

اکتوبر میں بھی پاکستان ٹیکسٹائل برآمدات میں بھارت، بنگلہ دیش سے آگے رہا

رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ معیشت کی موجودہ سمت کورونا سے پہلے کی طرز پر ہے اور مستقبل میں پیش رفت کا انحصار عالمی صورتحال پر منحصر ہے جب کہ ویکسین کی خبریں حوصلہ افزا ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ رواں برس تیل کی قیمتوں میں استحکام اور مقامی فیول کی قیمتیں برقرار رہنے کا امکان ہے تاہم بجلی اور گیس ٹیرف میں کی گئی گزشتہ ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے توانائی میں مجموعی طور پر کمی بیشی کا رسک زیادہ رہے گا۔

خوراک کی قیمتوں کے حوالے سے مرکزی بینک نے کہا ہے کہ موسلا دھار بارشوں اور سیلاب کے خطرات میں اضافے سے فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کے باعث خوراک کی قیمتوں پر دباؤ رہے گا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ معیشت کے ڈھانچے میں پائی جانے والی خرابیوں کو دور کرکے مسابقت کو بڑھایا جائے، ملک کے مالیاتی عدم توازن کا زیادہ پائیدار حل ضروری ہے، ٹیکس آمدنی بڑھا کر غیر ٹیکس محاصل پر انحصار کم کرنا ہوگا اور  ایف اے ٹی ایف پر کی گئی اہم پیش رفت کو برقرار رکھنا ہوگا جب کہ توانائی شعبے کی قیمت، انفراسٹرکچر اور نظم ونسق کے مسائل حل کرنےکی ضرورت ہے، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو ترقی دے کر مذید بہتر بنانےکی ضرورت ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here