دو ارب کی شاہانہ شادی، ایف بی آر کا سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں سے بھی تحقیقات کا فیصلہ

روزا بلانکا کنٹری کلب' نے شادی کی تقریب کیلئے 15 کروڑ چارج کیے، کمپنی کے این ٹی این سرٹیفکیٹ حاصل نہ کرنے پر ٹیکس چوری کا شبہ، معروف خدمات کنندگان کی جانب سے وصول کی گئی رقم کی صحیح مالیت سے متعلق تحقیقات کی درخواست

800

اسلام آباد: محکمہ ٹیکس نے سو شل میڈیا سے مشہور ہونے والی لاہور کی ’دو ارب روپے کی شاہانہ شادی‘ کے حوالے سے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے اور اب اس شادی میں خدمات فراہم کرنے والی نجی کمپنیوں سے بھی ٹیکس کے حوالے سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔

پرافٹ اردو کے پاس دستیاب دستیاویزات کے مطابق چیف کمشنر آف اِن لینڈ ریونیو اینڈ کارپوریٹ ٹیکس آفس (سی آر ٹی او) لاہور آمنہ حسن نے ایف بی آر ممبر(آپریشنز) کو خط لکھا ہے جس میں لاہور میں گزشتے ہفتے منعقد ہونے والی شاہانہ شادی کے اخراجات کی تفصیلات پیش کی ہیں۔
انہوں نے لکھا ہے کہ گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر لاہور میں منعقد ہونے والی ایک شادی کی تصاویر وائرل ہوئیں جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس شادی پر دو ارب روپے کے اخراجات آئے۔
آمنہ حسن نے لکھا کہ “محکمے نے شادی کی تقریب میں خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے حوالے سے بھی جامع تحقیقات کی ہیں، تاہم کمپنیاں ایف بی آر کے مختلف دفاتر کی حدود میں آتی ہیں، اس لیے متعلقہ ٹیکس دفاتر کو تمام معلومات بھیجوانی کی درخواست کی جاتی ہے تاکہ معاملے کی ہر پہلو سے چھان بین کی جاسکے”۔

دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ شادی کی تقریب لاہور کے روزا بلانکا کنٹری کلب میں منعقد کی گئی جس کی تین ماہ قبل ہی بکنگ کر لی گئی تھی اور کنٹری کلب نے شادی کی بکنگ کے لیے 15 کروڑ روپے وصول کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیے:

بیٹی کی مہنگی ترین شادی، ایف بی آر ماسٹر ٹائلز مالکان کیخلاف حرکت میں آ گیا

شادی ہالز، کیٹرنگ سروسز کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کیلئے سروے شروع

سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے ریکارڈ کے مطابق نجی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی بلانکا کنٹری کلب 2018ء میں رجسٹرڈ ہوئی تاہم اس نے اب تک این ٹی این سرٹیفکیٹ حاصل نہیں کیا اور کمپنی پر سرٹیفکیٹ نہ لینے کی بنیاد پر مکمل شبہ ہے کہ اس نے کبھی ٹیکس جمع نہیں کرایا۔

ایک اور انکوائری میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ درحقیقت یہ کاروبار یونائیٹڈ ایونٹس کے تحت سے چلایا جا رہا ہے کیونکہ جاری کردہ رسیدوں پر یونائیٹڈ ایونٹ سٹی کا نام سامنے آیا ہے جو مذکورہ کنٹری کلب کی ذیلی کمپنی ہے۔

یونائیٹڈ ایونٹس اور روزا بلانکا دونوں ہی لیک سٹی ہاؤسنگ سکیم مالک گوہر اعجاز کی ملکیت ہیں جو آل پاکستان ٹیکسٹآئل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے سابق چئیرمین بھی رہ چکے ہیں۔

اسی طرح ولیمے کی تقریب بحریہ گرینڈ ہوٹل اور ریزورٹ میں کی گئی جو بحریہ ٹاؤن کی ملکیت ہے اور اسی کی جانب سے چلایا جا رہا ہے۔

اس دوران محکمہ ٹیکس نے مذکورہ شادی کی تقریب میں فنکاروں راحت فتح علی خان، ابرار الحق، عاطف اسلم اور مبلغ مولانا طارق جمیل کو مجموعی طور پر ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد ادائیگی کی تصدیق کی بھی درخواست کی ہے۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ “معروف ایونٹ مینجر قاسم یار ٹوانہ نے سال 2019ء کے ٹیکس گوشوارے میں دو لاکھ 16 ہزار 743 روپے کی آمدن ڈکلئیر کی تھی اور وہ اس وقت کسی بھی دوسری کمپنی کے رکن نہیں تھے، آر ٹی او راولپنڈی ان کی جانب سے وصول کی گئی رقم کی بھی تحقیقات کرے۔”

سی آر ٹی او نے اپنی رپورٹ میں عرفان احسن، مبین سٹوڈیو، عثمان پرویز اور احمد فیاض کی جانب سے خدمات فراہم کرنے کے بدلے میں وصول کی گئی صحیح رقم کی چھان بین کرنے پر بھی زور دیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق معروف فوٹو گرافر عرفان احسن ہائی پروفائل فوٹو شوٹ کے لیے 30 لاکھ چارج کرتے ہیں لیکن انہوں نے ٹیکس سال 2019ء کے دوران صرف 9 لاکھ 12 ہزار 602 روپے آمدن ڈکلئیر کی۔

مزید برآں سی آر ٹی او نے ایف بی آر لاہور اور فیصل آباد سے ٹائم اینڈ ٹیسٹ کیٹرنگ اینڈ ایونٹ مینجمنٹ کمپنی کے ساتھ ساتھ ‘ڈائنیسٹی فیصل آباد کے خلاف بھی تفتیش کرنے کی درخواست کی ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ شازرے خالد ایونٹس (Shazray Khalid Events) اور وِنک ایونٹس (Winc Events) نے میک اپ سروسز کی خدمات کے بدلے 10 لاکھ چارج کرتے ہیں، آر ٹی او لاہور کو ان کی جانب سے بھی وصول کی گئی صحیح رقم کی تحقیقات کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here