برآمدات بڑھانے کیلئے پنجاب حکومت کا ہائی ٹیک لیبارٹریز قائم کرنے کا فیصلہ

190

لاہور: چئیرمین پنجاب پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ (پی اینڈ ڈی) بورڈ حامد یعقوب شیخ نے کہا ہے کہ صوبے کی برآمدات بڑھانے اور کاروباری لاگت کم کرنے کے لیے ہائی ٹیک ٹیسٹنگ لیبارٹریز قائم کی جائیں گی۔

لاہورچیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) کے اراکین سے بات چیت کرتے ہوئے یعقوب شیخ نے کہا کہ پنجاب حکومت نے تجارتی تنازعات کو جلد حل کرنے کے لیے حال ہی میں کمرشل عدالتیں قائم کی ہیں، اسی طرح کاروبار اور صنعتوں کے قیام کیلئے زمین کا حصول آسان بنایا جائے گا، زمین کی لاگت کو کم کرنے کے لیے آسان قسطوں کی پالیسی بھی متعارف کرائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت آئی ٹی پارکس کی ترقی پر توجہ دے رہی ہے کیونکہ خدمات کے شعبے کے مسائل حل کرنے کے لیے کوئی ادارہ نہیں تھا، آئی ٹی سیکٹر اب پنجاب کی معیشت میں 60 فیصد حصہ ڈال رہا ہے۔

چئیرمین بورڈ برائے منصوبہ بندی و ترقی پنجاب کا کہنا تھا کہ لاہور چیمبر کے تعاون بنائی کئی پنجاب گروتھ سٹریٹجی 2023ء میں اس بات پر توجہ دی گئی ہے کہ خطے کے دیگر ممالک کی برابری کیسے کی جائے اور انسانی سرمائے کو کس طرح کارآمد بنا کر ترقی کے عمل میں شامل کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے:

’سٹیٹ بینک ایس ایم ایز، خواتین انٹرپرینیور کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے‘

بزدار حکومت نے 75 چھوٹے کاروباروں کی لائسنس فیس معاف کر دی

چیئرمین پی اینڈ ڈی نے کہا پنجاب کی ترقی میں سرکاری اور نجی شعبوں کے مابین خلاء کو پُر کرنے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر صدر لاہور چیمبر طارق مصباح نے کہا کہ پنجاب گروتھ سٹریٹجی 2023 پر نظرثانی کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کیلئے پنجاب بورڈ برائے منصوبہ بندی و ترقی کے اقدام کو سراہتے ہیں، یہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ ملکی معیشت میں پنجاب 54 فیصد حصہ ڈالتا ہے اور 53 فیصد آبادی کا حامل صوبہ ہے۔

انہوں نے کاروباروں کو سہولیات دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے تاکہ کورونا وائرس کے بعد کاروبار ملکی معیشت کی بحالی میں اہم کردار ادا کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کے سالانہ بجٹ کے مطابق صوبے میں 100 سے زائد ٹیکسز عائد ہیں، کاروباری برادری کو آسانی فراہم کرنے کے لیے صوبائی ٹیکسوں کی تعداد کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔

دوسری بات یہ کہ پنجاب میں ایس ایم ایز برآمدات میں زیادہ حصہ ڈالنے کے لیے موزوں نہیں ہیں، اس کی ایک بڑی وجہ ایس ایم ایز نجی شعبے سے صرف 6.4 فیصد ہی کریڈٹ حاصل کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں ایس ایم ایز بالخصوص انجنئیرنگ کے شعبے میں ٹیکنیکل مسابقت اور اپنی برآمدات میں اضافے کے قابل نہیں ہو پا رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ کو حل کرنےکے لیے پنجاب گروتھ سٹریٹیجی میں خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here