خیبر پختونخوا کے بعد لاہور میں بھی مالکان کا شادی ہالز بند کرنے سے انکار

کیا وزیراعظم کے جلسوں، حزبِ اختلاف کی ریلیوں، مذہبی اجتماعات سے وائرس پھیلنے کا خطرہ نہیں؟ حکومت فیصلہ واپس لے ورنہ سڑکوں پر نکلیں گے: پنجاب میرج ہالز اینڈ کیٹررز ایسوسی ایشن

142

لاہور: پنجاب میرج ہالز ایسوسی ایشن (پی ایم ایچ اے) اور پنجاب کیٹررز ایسوسی ایشن (پی سی اے) نے حکومت کے شادی ہالز کو بند کرنے کے حکم پر عملدرآمد کرنے سے انکار کر دیا۔

پنجاب حکومت نے کورونا کی دوسری لہر کے باعث کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد اور وبا پر قابو پانے کے لیے 20 نومبر سے 31 جنوری تک شادی ہالز بند کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم دونوں ایسوسی ایشنز نے حکومت سے یہ فیصلہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

پنجاب میرج ہالز اینڈ کیٹررز ایسوسی ایشن نے لاہور پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے پنجاب حکومت کے فیصلے کو مسترد کیا اور اس پر عملدرآمد کرنے سے انکار کر دیا، پریس کانفرنس میں صدر آل پاکستان میریج ہالز ایسوسی ایشن (اے پی ایم ایچ اے) میاں خالد ادریس بھٹی، سینئر نائب صدر ملک عقیل سرور، جنرل سیکرٹری راؤ طارق اسلام اور دیگر شریک تھے۔

پریس کانفرنس سے خطاب میں خالد بھٹی نے پنجاب حکومت پر امتیازی سلوک برتنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے سوال اٹھائے کہ کیا حافظ آباد کے جلسے میں کورونا وائرس پھیلنے کا کوئی خطرہ نہیں تھا جہاں وزیراعظم نے جلسے سے خطاب کیا؟ کیا حزبِ اختلاف کی ریلیوں، مذہبی اجتماعات، ریلوے اسٹیشنز، ائیرپورٹس اور پبلک ٹرانسپورٹ وغیرہ میں بھی وائرس پھیلنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے؟

یہ بھی پڑھیے:

کورونا کی وجہ سے شادی ہالز کی بندش، خیبر پختونخوا میں مالکان کی احتجاج کی دھمکی

بیٹی کی مہنگی ترین شادی، ایف بی آر ماسٹر ٹائلز مالکان کیخلاف حرکت میں آ گیا

شادی ہالز، کیٹرنگ سروسز کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کیلئے سروے شروع

ایسوسی ایشن کے سربراہ نے کہا کہ جب پہلا لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تو شادی ہالز دوسرے کاروباروں سے پہلے ہی بند کر دیے گئے اور سب سے آخر میں کھولے گئے۔ “اس کے بعد اور صفر کی وجہ سے کاروبار نہ ہونے کے برابر رہا، اب کام شروع ہوا ہے تو دوبارہ سے شادی ہالز بند کرنے کا حکم صادر کر دیا گیا ہے۔”

ایسوسی ایشن کے ارکان نے وزیراعظم، چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف سے اپیل کی کہ ان کے کاروبار بچائے جائیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ شادی ہالز بند کرنے کا حکم فی الفور واپس لے کیونکہ یہ ہزاروں افراد کے روزگار کا سوال ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں پہلے ہی سخت ایس او پیز کے تحت شادی کے انتظامات کرنے کی اجازت دی گئی ہے، پنجاب میں کسی بھی شادی ہال نے ان ایس او پیز کی خلاف ورزی نہیں کی۔

ایسوسی ایشن کے ارکان نے شادی ہالز بند کرنے کا فیصلہ واپس نہ لینے کی صورت میں احتجاج کی دھمکی بھی دے ڈالی، اس سے قبل خیبرپختونخوا ویڈنگ ہالز ایسوسی ایشن نے بھی حکومتِ خیبرپختونخوا کے خلاف بندش کا فیصلہ واپس نہ لینے کی صورت میں احتجاج کی دھمکی دے رکھی ہے۔

خیبرپختونخوا ویڈنگ ہالز ایسوسی ایشن نے کہنا ہے حکومت صوبہ بھر میں شادی ہالز کو بند کرنے پر بضد ہے، لاک ڈاؤن سے شادی ہالز انڈسٹری کو سات ارب روپے کا نقصان ہوا، اب ایسوسی ایشن اپنا کام روک کر مزید نقصان برداشت نہیں کرسکتی۔

دوسری جانب پنجاب حکومت نے شادی ہالز کھولنے کے لیے متبادل تجاویز مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، حکومت نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے آئندہ اجلاس میں اپنی تجاویز پیش کرے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here