وفاقی کابینہ نے گندم کی امدادی قیمت 1650 روپے فی من مقرر کر دی

ٹڈاپ کو پاکستانی مصنوعات رجسٹر کرنے کے اختیارات تفویض، ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن کے قیام کی اصولی منظوری، وزیراعظم کی ٹارگٹڈ سبسڈی کا طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت

190

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے گندم کی فصل کی امدادی قیمت 1650 روپے فی 40 کلو گرام مقرر کرنے کی منظوری دے دی۔

وفاقی کابینہ کا اجلاس منگل گو وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت منعقد ہوا، اجلاس کے دوران معاون خصوصی برائے محصولات ڈاکٹر وقار مسعود نے کابینہ کو سبسڈی اور گرانٹس کے طریقہ کار کو معقول بنانے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

وزیراعظم میڈیا آفس کے مطابق اجلاس میں کابینہ کو گزشتہ 13 سال کے محصولات و اخراجات، سبسڈی اور گرانٹس کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا، کابینہ کو بتایا گیا کہ اوسطاً قرضوں کی ادائیگیوں کی وجہ سے اخراجات کی شرح محصولات سے زیادہ رہی ہے۔

معاون خصوصی وقار مسعود نے بتایا کہ اس وقت تقریباً معیشت کے بیشتر شعبوں بشمول توانائی، زراعت، صنعت اور دیگر شعبوں میں سبسڈی اور گرانٹس دی جا رہی ہیں جن کی وجہ سے قومی خزانے پر بے جا بوجھ پڑ رہا ہے۔ اس وقت سبسڈی اور گرانٹس کا کل حجم جی ڈی پی کا 4.5 فیصد ہے۔

معاون خصوصی نے ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کے حوالے سے کابینہ کے سامنے تجاویز پیش کیں، یہ تجویز دی گئی کہ احساس ڈیٹا بیس کو غرباء کو ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کے لئے استعمال کیا جائے۔

وزیراعظم نے تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ سبسڈی اور گرانٹس کا اصل حق دار غریب طبقہ ہے لیکن اس وقت امیر اور غریب دونوں کو یکساں سبسڈی میسر ہے، ٹارگٹڈ سبسڈی کا ایسا طریقہ کار وضع کیا جائے جس کا فائدہ خصوصاً غریب طبقے اور پسماندہ علاقوں کو ملے۔

وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ ان تمام شعبوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے جن میں غرباء اور پسماندہ علاقوں کو ٹارگٹڈ سبسڈی دی جا سکتی ہے اور جامع منصوبہ بمع عمل درامد کی مدت کے ساتھ پیش کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی یہ بڑی کامیابی ہے کہ شیڈولڈ بینکوں میں سرکاری اداروں کے ڈیپازٹس کو سٹیٹ بینک میں منتقل کیا گیا ہے جس سے خاطر خواہ بچت ہوئی ہے۔

کابینہ نے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) کو جغرافیائی انڈیکیشن رجسٹریشن (جی آئی ٹیگ) کے اختیارات تفویض کرنے کی منظوری دیدی، یہ منظوری پاکستانی مصنوعات کو دنیا میں الگ شناخت دلوانے کیلئے دی گئی ہے۔

پاکستان کی مخصوص پیداوار و مصنوعات بشمول باسمتی چاول، کینو، آم، اجرک، کٹلری وغیرہ ملک کی جغرافیائی شناخت سے منسلک ہیں اور انہی کی بدولت پاکستان کے برآمدات کی منفرد پہچان بھی ہے۔

کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 28 اکتوبر 2020ء کو منعقدہ اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی، کابینہ نے کمیٹی برائے توانائی کے 29 اکتوبر 2020ء کو منعقدہ اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی۔

کابینہ نے سعودی حکومت کی طرف سے تجویز کردہ ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن کے قیام کی اصولی منظوری دے دی، اس ادارے کے قیام سے علاقائی ممالک کے مابین انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کے فروغ میں مدد ملے گی۔

وفاقی وزیر اسد عمر نے کابینہ کو کورونا وباء کے حوالے سے موجودہ صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا، کابینہ کو بتایا گیا کہ کورونا وباء کے پھیلاؤ میں اضافہ کی شرح دیکھی جا رہی ہے جو تشویشناک ہے۔

وزیراعظم نے قوم سے اپیل کی کہ احتیاطی تدابیر اختیار کیں جائیں، ماسک کے استعمال کو یقینی بنایا جائے، وزیر اعظم نے این سی او سی کو ہدایت دی کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے روزگار کو متاثر کیے بغیر لائحہ عمل مرتب کیا جائے، اس موقع پر کابینہ نے اصولی فیصلہ کیا کہ حکومت کی جانب سے اس دوران کوئی عوامی اجتماع منعقد نہیں کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here