باسمتی چاول کس کا؟ درآمدکنندگان کا یورپی یونین میں بھارتی دعویٰ چیلنج کرنے کا فیصلہ

پاکستان کے بعد یورپین درآمدکنندگان نے بھی بھارتی باسمتی چاول کے جی آئی ٹیگ کا دعویٰ چیلنج کر دیا، پاکستانی حریف کو جی آئی ٹیگ ملنے سے یورپین رائس ملرز کے کاروباروں کو خطرہ درپیش، ہندوستان نے جی آئی ٹیگ کا دعوی صرف پاکستان کو یورپین منڈی سے دوررکھنے کے لیے کیا

145

اسلام آباد: یورپین یونین میں باسمتی چاول کے جیو گرافیکل انڈی کیشن (جی آئی) ٹیگ کے بارے میں بھارتی درخواست کو پاکستان سرکاری طور پر چیلیج کرنے جا رہا ہے اور اب  پاکستانی باسمتی چاول کے یورپی یونین میں درآمدکنندگان نے بھی بھارتی اقدام کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارتِ تجارت کے ذرائع کے مطابق دسمبر کے پہلے ہفتے تک پاکستان یورپی یونین میں باسمتی چاول کے حوالے سے بھارتی درخواست کو چیلنج کرے گا، اس حوالے سے تمام تر مطلوبہ کارروائی مکمل کی جا چکی ہے۔

ذرائع نے کہا کہ بھارتی دعوے کو چیلنج کرنے کے لیے مشاورتی فرمز کو مقرر کرنے کا عمل جلد مکمل کر لیا جائے گا۔

پاکستان کے سرکاری طور پر بھارتی دعوے کے خلاف اعتراض سے قطع نظر یورپ میں پاکستانی چاول کے درآمدکنندگان بھی بھارتی دعوے پر اعتراض دائر کریں گے کیونکہ بھارتی چاول کو جی آئی ٹیگ ملنے سے ان کے کاروبار متاثر ہونے کے خدشات ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

’پاکستان باسمتی چاول پر بھارتی دعویٰ یورپی یونین میں چیلنج کرے گا‘

چاول برآمدکنندگان کا شپنگ کمپنیوں کی جانب سے چارجز میں اضافہ پر اظہار تشویش

چاول کے ایک برآمدکنندہ نے بتایا “بھارتی چاولوں کو یورپین ممالک میں کیڑے مار ادویات کے اثرات کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے، اس بناء پر براؤن رائس کے درآمدکنندگان اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے پاکستان کی طرف دیکھنے پر مجبور ہیں۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ یورپ میں 2018-2019 کے دوران بھارتی چاول کے برآمدکنندگان کی برآمدات کیڑے مار ادویات کی مقدار سے متعلق مسائل کی وجہ سے 40 فیصد کم رہیں، بھارت بظاہر اپنے باسمتی چاول رجسٹرڈ کروانے کی کوشش میں ہے تاکہ پاکستانی مصنوعات کو منافع بخش منڈیوں سے دور رکھ سکے۔

ذرائع کے مطابق یورپ کے براؤن رائس ملرز خاص کر برطانیہ کو بھارتی دعوے پر تشویش ہے، امکان ہے کہ یورپی یونین بھی پاکستان کے مقابلے میں مذکورہ رائس ملرز کی درخواستوں کو زیاہ سنجیدگی سے لے گی اور اپنے ملرز کے مفادات کو ترجیح دے گی۔

پاکستان اور بھارت سے درآمد کیے گئے تیار شدہ چاول کے مقابلے میں خام چاول کی درآمد پر ڈیوٹی میں چھوٹ کی وجہ سے یورپی ملرز عام طور پر براؤن رائس درآمد کرنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں اور پروسسینگ کے بعد یہی چاول فروخت کیے جاتے ہیں۔

وزارتِ تجارت کے ماتحت کام کرنے والے ادارے انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن (آئی پی او) پاکستان کے حکام کے مطابق مذکورہ وزارت نے برسلز میں دو بین الاقوامی لاء فرمز کو یورپ میں جی آئی ٹیگ کا کیس لڑنے کے لیے منتخب کیا ہے، وزیراعظم عمران خان اس حوالے سے جلد حتمی منظوری دیں گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here