کیا ٹیلی کام کمپنیوں پر گلگت بلتستان میں نیٹ ورک کو توسیع دینے پابندی ہے؟

ٹیلی کام کمپنیاں صرف خطے میں کمرشل صارفین کی محدود تعداد کی وجہ سے گھبرا رہی ہیں، ایس سی او ان موبائل ٹاورز کو آئندہ مہینوں میں 3جی اور 4جی پر منتقل کرنے کے علاوہ قراقرم ہائی وے کے ساتھ ساتھ 92 کے قریب موبائل ٹاورز کو 3جی اور 4جی پر اپ گریڈ کرے گی، وفاقی وزیرامین الحق

450

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی سید امین الحق نے دعوٰی کیا ہے کہ ٹیلی کام کمپنیوں پر گلگت بلتستان میں تھری جی اور فور جی سروسز فراہم کرنے پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں کی گئی۔

گلگت بلتستان میں ٹیلی کام کمپنیاں اپنے انفراسٹرکچر کو توسیع دینے میں صرف اس لیے گھبرا رہی ہیں کیونکہ ان کے لیے وہ علاقہ کمرشل لحاظ سے موزوں نہیں۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ چاروں نجی ٹیلی کام کمپنیوں جاز، یوفون، ٹیلی نار اور زونگ پر گلگت بلتستان میں اپنے آپریشنز شروع کرنے کے لیے کسی بھی طرح کی پابندی نہیں ہے، کمپنیاں صرف علاقے میں کمرشل صارفین کی محدود تعداد کی وجہ سے ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔

یاد رہے کہ گلگت بلتستان کیلئے تھری جی اور فورجی سپیکٹرم کی نیلامی سے قبل یہ تاثر پایا جا رہا ہے کہ شائد حکومت کی جانب سے ٹیلی کام آپریٹرز پر مذکورہ علاقے میں اپنی سروسز کو توسیع دینے پر پابندی عائد کی گئی ہے اور حکومت من پسند کمپنی کو گلگت بلتستان میں انٹرنیٹ سروس کی فراہمی کا اختیار دینا چاہتی ہے۔

سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (ایس سی او) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل علی فرحان کے ساتھ اپنی ایک ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر سید امین الحق نے کہا کہ پورے گلگت بلتستان میں 62 موبائل ٹاورز ہیں جن سے ابھی تک ٹو جی سروس فراہم کی جا رہی ہے، سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (ایس سی او) ان موبائل ٹاورز کو آئندہ چند ماہ میں تھری جی اور فورجی پر منتقل کرنے کے علاوہ شاہراہ قراقرم کے ساتھ ساتھ 92 ٹاورز کو تھری جی اور فورجی پر اَپ گریڈ کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ گلگت بلتستان کے چار شہروں کو ایس سی او کی جانب سے ٹرپل بنڈل کی پیشکش کی جائے گی، جو ٹی وی، انٹرنیٹ اور ٹیلی فون کے پیکیج پر مشتمل ہو گی۔

یہ بھی پڑھیے:

ابو ظہبی گروپ کا پاکستانی ٹیلی کام سیکٹر کو خیر باد کہنے کا فیصلہ

گلگت بلتستان کے عوام کیلئے اچھی خبر، فورجی سروس جلد شروع ہو گی

وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے ایس سی او کے ذریعے گلگت بلتستان میں آئی ٹی اور ٹیلی کام سیکٹر میں کافی سرمایہ کاری کر رکھی ہے جس سے وہاں کے عوام کی ناصرف سماجی اور معاشی صورتحال بہتر ہوں گی بلکہ سی پیک سے منسلک منصوبوں پر کام کرنے والوں کو بھی سہولیات میسر آئیں گی۔

وزارتِ آئی ٹی اور ٹیلی کام کے ماتحت ایس سی او ایک پبلک سیکٹر آرگنائزیشن ہے جسے آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں تمام ٹیلی کام سروسز کو فعال کرنے اور فروغ دینے کے لیے 1976ء میں قائم کیا گیا تھا۔

ایس سی او کئی سالوں سے آئی ٹی اور ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی ترقی کیلئے کام کر رہی ہے جس میں مذکورہ خطے میں 4800 کلومیٹر آپٹیکل فائبر کیبل بچھانا بھی شامل ہے۔

سید امین الحق نے کہا کہ ان کی وزارت نے گلگت بلستان میں آئی ٹی پارک پر کام شروع کر دیا ہے جبکہ حکومتِ آزاد جموں و کشمیر کو آئی ٹی پارک قائم کرنے کے لیے وزارتِ آئی ٹی کو جگہ فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔

ملک کے دیگر حصوں میں ایس سی او کے نیٹ ورک کو وسیع کرنے کی تجویز پر بات کرتے ہوئے امین الحق نے کہا کہ اگرچہ اس حوالے سے کچھ تجاویز موجود ہیں لیکن موجودہ حکومت کا ایسا کوئی منصوبہ نہیں، حتیٰ کہ اس موضوع پر بات چیت بھی نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ان کی وزارت کی توجہ گلگت بلتستان سمیت ملک کے ان حصوں میں ٹیلی کام اور انٹرنیٹ سروسز کو بہتر کرنے پر ہے جہاں موبائل انٹرنیٹ اور آئی ٹی کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here