دعوئوں کے برعکس طورخم بارڈر پر سہولیات کا فقدان، تاجر نالاں

پولیٹیکل ایجنٹ نے ڈپٹی کمیشنر کو اختیارات دینے کی بجائے پولیس کو دے دیے جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹرز کو کئی مشکلات کا سامنا،کسٹمز ایکسپورٹ پالیسی میں زیرو پوائنٹس سکینر نصب کرنا مینشن نہیں، غیرفعال مشینری، سکینر تاجروں کے وقت کے ضیاع کا باعث بن رہے ہیں

153

پشاور: حکومت کے افغانستان کے ساتھ طورخم بارڈر پر دوطرفہ تجارت کے دعوؤں کے برعکس تاجروں کوسخت مشکلات کا سامنا ہے، تاجروں نے برآمدکنندگان کے لیے سرحد پر فعال مشینری اور بہترین سہولیات دینے کا مطالبہ کر دیا۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ سرحد پر نصب کیے گئے سکینرز غیرفعال ہوے ہیں جس کی وجہ سے کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے، دیگر سہولیات کا بھی فقدان ہے جس کے باعث برآمدکنندگان اور قومی خزانے کو بھاری نقصان ہو رہا ہے۔

فرنٹیئر کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن (ایف سی اے اے) کے صوبائی صدر ضیاالحق سرحدی نے پرافٹ اردو کو بتایا کہ طورخم بارڈر پر نہ صرف غیرفعال مشینری کے باعث تجارتی سرگرمیوں جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے بلکہ سرحد انتظامیہ اور دیگر اداروں کی خراب کارکردگی کی وجہ سے بھی تاجروں کو مسائل درپیش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے بارہا وَن ونڈو آپریشن کا وعدہ کیا لیکن ابھی تک طورخم بارڈر پر ایسی کوئی سہولت شروع نہیں کی گئی۔

“قبائلی اضلاع کے خیبرپختونخوا میں ضم ہونے سے قبل پولیٹیکل ایجنٹ کی جانب سے ایک پرمٹ جاری کر دیا جاتا تھا لیکن اب بارڈر پر تمام تجارتی ٹرکوں کو کلئیر کرانے کی ذمہ داریاں انتظامیہ پر عائد ہیں اور صرف کسٹمز حکام کی کلئیرنس کے بعد ہی سرحد پر گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے”۔

یہ بھی پڑھیے:

خرلاچی بارڈر سے افغانستان کیساتھ تجارت کی اجازت

بلند ٹرمینل چارجز افغانستان کے ساتھ تجارت بڑھانے میں بڑی رکاوٹ ہیں 

ضیاءالحق سرحدی نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے ضم ہونے کے بعد طورخم بارڈر پر ترقیاتی کام سست روی کا شکار ہے اور مختلف ایجنسیوں کے مابین اختیارات کی تقسیم کے بعد کافی مشکلات سر اٹھانے لگی ہیں، پولیٹیکل ایجنٹ کے اختیارات ڈپٹی کمشنر کو دینے کی بجائے پولیس کو دیے گئے ہیں جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹرز کو بے شمار مشکلات درپیش ہیں۔

طورخم پر کام کرنے والے کچھ کلئیرنگ ایجنٹس نے بتایا کہ کسٹمز ایکسپورٹ پالیسی میں زیرو پوائنٹس پر سکینر نصب کرنا شامل نہیں لیکن پھر بھی سکینر نصب کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے تاجروں کا وقت ضائع ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے روزانہ میں 60 سے زائد تجارتی گاڑیوں سرحد پار کرتی تھیں لیکن اب دن بھر میں چار یا پانچ گاڑیاں گزر پاتی ہیں جس سے قومی خزانے اور برآمدکنندگان کو بھاری نقصان ہو رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں ہماری مصنوعات مارکیٹس سے غائب ہو گئی ہیں یا پاکستانی اشیا کی جگہ دیگر ملکوں کی مصنوعات نے لے لی ہے جو پاکستان کی معیشت اور زرمبادلہ کیلئے بے حد بری خبر ہے۔

کسٹمز کلئیرنگ ایجنٹس کے مطابق کئی کراسنگ پوائنٹس پر نصب سکینر افغانستان کے ساتھ پاکستان کی تجارت کو متاثر کر رہے ہیں اور یہ ملکی قوانین کی خلاف ورزی بھی ہے کیونکہ ایکسپورٹ پالیسی میں سکینرز کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ایسے مسائل کی وجہ سے دوطرفہ تجارتی حجم میں کمی آئی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here