ہیتھرو کے پاس یورپ کا مصروف ترین ائیرپورٹ ہونے کا اعزاز نہیں رہا

ہوائی اڈے پر اُترنے والے مسافروں کا کورونا ٹیسٹ کرنے کے بجائے انہیں چودہ روز قرنطینہ میں رکھنے کی پالیسی ائیرپورٹ کے لیے مہنگی ثابت ہوئی

84

لندن : برطانوی دارالحکومت کا ہیتھرو ائیرپورٹ دنیا کا مصروف ترین ائیرپورٹ نہیں رہا بلکہ زیادہ پروازوں کے حوالے سے اب یہ تاج پیرس کے ہوائی اڈے کے سر سج گیا ہے۔

ہیتھرو ائیرپورٹ انتظامیہ نے اس صورتحال کا ذمہ دار برطانوی حکومت کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری سطح پر اقدامات نہ اُٹھائے جانے کے باعث اس کے مسافروں کی تعداد میں اس کے حریفوں کے مقابلے میں تیزی سے کمی آ رہی ہے۔

ہوائی اڈے کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ فرانس کے دارالحکومت پیرس کا چارلس ڈیگال ائیرپورٹ یورپ کا مصروف ترین ہوائی اڈہ بن گیا ہے جس کی وجہ سے برطانیہ کے تجارتی عزائم کو زبردست دھچکا پہنچنے کا خدشہ ہے۔

ائیرپورٹ انتظامیہ کا کہنا ہے برطانوی حکومت نے ائیرپورٹ کو کورونا ٹیسٹنگ کی سہولت فراہم کرنے کے بجائے یہاں اُترنے والے مسافروں کو 14 روز قرنطینہ میں رکھنے کی حکمت عملی اپنائی جس کے سبب اس کے مسافروں میں نمایاں کمی آ گئی ہے۔

انتظامیہ کا کہنا تھا کہ کورونا کے بڑھتے کیسزاور سفری پابندیوں کی دوبارہ واپسی کے پیش نظر اگلے سال  تین کروڑ ستر لاکھ لوگوں کی جانب سے ہیتھرو ائیرپورٹ کے استعمال کی اُمید ہے جو جون میں لگائے گئے اندازے سے 41 فیصد کم ہے۔

اس حوالے سے ہیتھرو ائیرپورٹ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر جان ہالینڈ کائے کا کہنا تھا کہ ’صورت حال ایسی ہے کہ ہم مسافروں کی تعداد میں ایمسٹرڈیم اور فرینکفرٹ ائیرپورٹس سے بھی پیچھے رہ سکتے ہیں لہٰذا حکومت کو فوری طور پر ایکشن لینا چاہیے۔‘

یہ بھی پڑھیے :

برٹش ائیرویز کی پرواز 40 سال بعد لاہور ائیرپورٹ پر لینڈ کر گئی

یورپی یونین سے تجارتی معاہدہ میں ناکامی برطانیہ کو کس قدر مہنگی پڑ سکتی ہے؟

انہوں نے بتایا کہ جولائی تا ستمبر تک کے عرصے میں ہوائی اڈے کے مسافروں کی تعداد میں 84 فیصد کمی واقع ہو چکی ہے اور اس جاری صورت حال کے باعث گزشتہ نو ماہ میں اسے ڈیڑھ ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔

اگرچہ برطانیہ نے ہیتھرو ائیرپورٹ پر کورونا ٹیسٹنگ کی بنیاد پر قرنطینہ کے دورانیے میں کمی کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے مگر جان ہالینڈ کائے کو اُمید تھی کہ حکومت،  برطانیہ اور امریکا کے قرنطینہ فری سفر کی اجازت بھی دے دے گی مگر ایسا نہیں ہوا۔

اس پر جان کائے کا کہنا تھا کہ “ممکن ہے کہ نومبر کے آخر تک اس کی اجازت دے دی جائے مگریہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایسا نہ ہو۔‘‘

واضح رہے کہ ہیتھرو ائیرپورٹ کی بیس فیصد  ٹریفک کا تعلق امریکا سے ہوتا ہے اور اس  ہوائی اڈے کی ملکیت سپین کے Ferrovial، قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی اور چائنہ انویسٹمنٹ کارپوریشن و دیگر کے پاس ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here