امریکا بھارت کو میزائل حملے کیلئے سیٹلائٹ ڈیٹا دیگا، معاہدہ پر دستخط

بھارت کو جدید فوجی ہارڈویئر، ٹیکنالوجی اور معلومات کی فراہمی علاقائی استحکام اور امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، پاکستان کا ردعمل

291

دہلی: چین سے کشیدگی کے دوران بھارت اور امریکہ نے عسکری معاہدے پر دستخط کر دئیے ہیں جس کی رو سے امریکا بھارت کو میزائل حملے کیلئے سیٹلائٹ ڈیٹا فراہم کرے گا ، اس سے کسی بھی علاقے کا صحیح جغرافیائی محل وقوع معلوم ہو سکے گا۔

منگل کو امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو  اور  وزیر دفاع مارک ایسپر نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ  اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر سےملاقات کرکے معاہدے پر دستخط کیے جس کو ’بیسک ایکسچینج اینڈ کارپوریشن ایگریمنٹ ‘کا نام دیا گیا ہے، بھارت کا کہنا ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے مابین فوجی تعاون کو فروغ ملے گا۔

مائیک پومپیو نے بھارتی وزیر خارجہ سبرامَنیم جے شنکر اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ساتھ بات چیت کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ بڑی بڑی چیزیں رونما ہو رہی ہیں اور ہماری جمہوری ریاستیں شہریوں اور آزاد دنیا کی بہتر حفاظت کے لیے ساتھ کھڑی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ آج دو بڑی جمہوریتوں کے نزدیک آنے کا شاندار موقع ہے، اس خطہ میں امن اور استحکام کو فروغ دینے کیلئے اور چین کے خطرات کا سامنا کرنے کیلئے ہم بات چیت کرکے بہت کچھ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے رہنما اور ہمارے شہری دیکھ  سکتے ہیں کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی جمہوریت، قانون کی حکمرانی، شفافیت، آزادی اور آزاد ماحول کی دوست نہیں ہے۔

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے کہا کہ دی بیسک ایکسچینج اینڈ کارپوریشن ایگریمنٹ ایک سنگ میل ہے جو دونوں ممالک کے درمیان عسکریت پسندوں کے خلاف بھرپور تعاون کا سبب بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے بھارت کو مزید لڑاکا طیارے اور ڈرون فروخت کرنے کا ارادہ کیا ہے اور مذکورہ معاہدے سے بھارت کو ٹوپوگرافیکل، سمندری اور ایروناٹیکل ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوگی جو میزائلوں اور مسلح ڈرون کو نشانہ بنانے کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔

بیسک ایکسچینج اینڈ کارپوریشن ایگریمنٹ

امریکا اور بھارت کے درمیان اہم دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں اور اس معاہدے کو خطے میں بھارت کی دفاعی برتری کیلئے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل دونوں ملکوں کے درمیان جنرل سیکیورٹی اینڈ ملٹری انفارمیشن ایگریمنٹ (2002ء)، لاجسٹک ایکسچینج میمورنڈم آف ایگریمنٹ (2016ء)، کمیونیکیشن کمپیٹی بلیٹی اینڈ سیکیورٹی ایگریمنٹ (2018ء) کے معاہدے ہو چکے ہیں۔

حالیہ معاہدے کے تحت بھارت کو مختلف فضائی اور میدانی علاقوں کے فضائی ڈیٹا تک رسائی حاصل ہو جائے گی جس کا مقصد چین کی عسکری طاقت کا مقابلہ کرنا ہے۔ اس معاہدے کے تحت بھارت اور امریکا نقشوں، ناٹیکل اور ایروناٹیکل چارٹس، کمرشل و دیگر غیر حساس تصاویر، جیو فزیکل، جیو میگنیٹک اور گریویٹی ڈیٹا کا تبادلہ کر سکیں گے۔

اس معاہدے کے تحت امریکا بھارت کے ساتھ حساس سیٹلائٹ اور سینسر ڈیٹا کا تبادلہ کرے گا جس کی مدد سے بھارت اپنے عسکری اہداف کو مہارت کے ساتھ نشانہ بنانے کا اہل ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ بھارت بحر ہند میں چینی جنگی جہازوں کی نقل و حرکت پر بھی نظر رکھ سکے گا۔ سیٹیلائٹ ڈیٹا تک رسائی کے باعث بھارت کو میزائل اور ڈرونز کی کارکردگی بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

پاکستان کا ردعمل 

امریکا بھارت عسکری معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت کو جدید فوجی ہارڈویئر، ٹیکنالوجی اور معلومات کی فراہمی علاقائی استحکام اور امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے وسیع پیمانے پر اسلحے کا حصول اور جوہری قوت کی توسیع دراصل جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے سنگین خطرے کی طرف پیش رفت ہے۔

چین کا ردعمل 

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے بیجنگ میں نیوز بریفنگ میں کہا ہے کہ مائیک پومپیو سے اپنی سرد جنگ کی ذہنیت کو ترک کریں اور چین کو خطرہ قرار دینے کی تکرار بند کریں، چین کے ساتھ بھارت کے اپنے مسائل ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here