ڈیٹا پرائیویسی کے معاملے پر ایمازون کا بھارتی پارلیمانی پینل کو بریفنگ دینے سے انکار

102

نئی دہلی: بھارت میں ایمازون کے نمائندوں نے پارلیمانی پینل کے سامنے پیش ہو کر صارفین کے ڈیٹا کی پرائیویسی کے حوالے سے بریفنگ دینے سے انکار کر دیا۔

بھارت میں حکومت ’پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل‘ پر نظرثانی کر رہے ہے، اس حوالے سے ایک پارلیمانی پینل بنایا گیا جو غیر ملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے بھارتی صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے بات چیت کر رہا ہے، پینل کی سربراہ میناکشی لِکھی کے مطابق ’اگر ایمازون کے نمائندے 28 اکتوبر سے پہلے پارلیمانی پینل کے سامنے پیش نہ ہوئے تو کمپنی کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘

تاہم دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں کی مذکورہ بل پر تحفظات ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بل سے غیرملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ممکنہ طور پر مسائل درپیش ہو سکتے ہیں، یہ بل ان کمپنیوں کو ڈیٹا محفوظ کرنے کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔

پارلیمانی پینل کی سربراہ میناکشی لکھی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایمازون بھارت میں بڑے پیمانے پر کاروبار کر رہی ہے، اگر کمپنی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوتی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ کمپنی کے خلاف کس طرح کی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

بھارتی پروپیگنڈا، پاکستان کا فیک نیوز پھیلانے والے ٹویٹر اکائونٹس بند کرنے کا مطالبہ

موبائل کمپنی نوکیا چاند پر انٹرنیٹ سروس مہیا کرے گی

ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے پاکستان کی مائیکروسافٹ کے ساتھ بات چیت

بھارت میں سخت ردِعمل کے جواب میں ایمازون کے ترجمان نے بھی ایک ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ پارلیمانی پینل کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں گے اور اپنی کمپنی کی پوزیشن سے متعلق غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔

ایمازون نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وبا کے دوران سفری پابندیوں کی وجہ سے ہمارے ماہرین بیرونِ ملک سفر کرنے سے قاصر رہے جس کے باعث بھارت میں پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہو سکے اور اسی وجہ سے فریقین میں غلط فہمی پیدا ہوئی۔

پینل کے ایک دوسرے رکن نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ جمعہ کے روز فیس بک کے نمائندے پارلیمانی پینل کے سامنے پیش ہوئے، ٹویٹرکو بھی 28 اکتوبر کو اپنے نمائندے پینل کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ بھارتی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے پلیٹ فارم ’Paytm‘ اور گوگل ایلفابیٹ کے نمائندوں کو 29 اکتوبر کو بلایا گیا ہے۔

بھارتی حکام کے مطابق اگر ٹیکنالوجی کمپنی کا کوئی عہدیدار پینل کے طلب کرنے پر پیش نہیں ہوتا تو اسے جیل کی ہوا کھانی پڑ سکتی ہے۔

بھارت ٹیکنالوجی سیکٹر کو ریگولیٹ کرنے کے لیے کئی قوانین تیار کررہا ہے جس کے پیش نظر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان بھارتی ریگولیشنز سے غیرملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے۔ بھارتی حکومت ای کامرس سیکٹر کے لیے بھی نئی پالیسی پر غور کر رہی ہے اور نام نہاد نان پرسنل ڈیٹا کو ریگولیٹ کرنے جا رہی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here