کورونا کے اثرات : اگلے پانچ سالوں میں انسانوں کی کروڑوں نوکریاں روبوٹس کے پاس ہونگی

وبا کے نتیجے میں کاروبار مالکان کی بڑی تعداد انسانی ملازمین میں کمی کرکے روبوٹس کو ذمہ داریاں سونپنے کے پلان میں تیزی لا رہے ہیں، اگلے پانچ سال میں ساڑھےآٹھ کروڑ نوکریاں ختم ہوجائینگی : ورلڈ اکنامک فورم

142

نیویارک :  اگلے پانچ سالوں میں روبوٹس  دنیا بھر میں انسانوں  کی آٹھ کروڑ پچاس لاکھ نوکریاں ہڑپ کرجائیں گے ۔ یہ کہنا ہے ورلڈ اکنامک فورم  کا جس کے مطابق کورونا کے باعث کام کی جگہوں  پر انسانوں کی جگہ مشینوں کی آمد میں تیزی آرہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق  تقریباً 300 کے قریب عالمی کمپنیوں کے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہر پانچ میں سے چار کاروبار مالکان کام کی جگہوں پر نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کے پلان  پر عمل درآمد میں تیزی لا رہے ہیں، جس سے 2007-08 کے مالی بحران کے بعد پیدا ہونے والے ملازمت کے مواقع ختم ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔

سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگلے پانچ سالوں میں صورتحال یہ ہوگی کہ ملازمین کو اپنی نوکریاں بچانے کے لیے نئی مہارتیں سیکھنا پڑیں گی  کیونکہ 2025 تک کاروبار مالکان کی اکثریت کام کو انسانوں  اور مشینوں میں برابری کی بنیاد پر تقسیم کردیں گے۔ یوں ان کاروباروں کی آدھی لیبر فورس کو اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے ۔

سروے میں اس بات کا مشاہدہ کیا گیا کہ مجموعی طور پر انسانوں کی نوکریوں کے خاتمے کی رفتار ملازمت کے مواقع پیدا ہونے کی نسبت تیز ہے کیونکہ کمپنیاں اب ڈیٹا انٹری ، اکاؤنٹنگ اور انتظامیہ کی ذمہ داریاں تیزی سے ٹیکنالوجی کے حوالے کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے :

سندھ، بلوچستان کیلئے نوکریوں کا کتنا کوٹہ ہے؟ وزارت خزانہ سے تفصیلات طلب

خیبرپختونخوا میں پہلا ڈیجیٹل سٹی کتنے ہزار ملازمتیں دے سکے گا؟

اس کے علاوہ سروے میں پایا گیا کہ تقریباً 43 فیصد کاروبار ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے ملازمین کی تعداد میں کمی کا ارادہ رکھتےہیں جبکہ 34 فیصد کاروبار ایسے ہیں جو ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ ملازمین کی تعداد بڑھانے کی سوچ کے حامل ہیں ۔

تاہم ورلڈ اکنامک فورم کا کہنا ہے کہ اچھی بات یہ ہےکہ کئیر انڈسٹری، آرٹیفیشل انٹیلی جنس، کانٹنٹ کری ایشن کے شعبہ جات میں نوے کروڑ ستر لاکھ نوکریاں پیدا ہونگی۔

فورم کا کہنا تھا کہ نوکریوں کے معاملے میں مشینی انقلاب میں تیزی کے باوجود ، انتظامیہ،  مشورہ سازی، فیصلہ سازی،  سوچ و بچار، رابطہ اور میل جول وہ معاملات ہیں جن میں انسانوں کو روپوٹس پر سبقت حاصل رہے گی۔

مزید برآں مستقبل میں کلاؤڈ کمپیوٹنگ، آرٹیفیشل انٹیلی جنس، نئی انجینئرنگ، پراڈکٹ ڈیویلپمنٹ ایسے شعبہ جات ہیں جن میں ملازمین کی مانگ میں اضافہ ہوگا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here