خیبرپختونخوا میں صنعتی ترقی کیلئے چھ اقتصادی زونز پر کام جاری

نوشہرہ، رشکئی، چترال، مہمند، ڈی آئی خان اور غازی اکنامک زون شامل کا سنگ بنیاد  نومبر سے فروری تک مرحلہ وار رکھا جائے گا

52

پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں صنعتی ترقی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے چھ اقتصادی زون قائم کرنے کی تیاریوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

ان کنامک زونز میں نوشہرہ اکنامک زون، رشکئی اکنامک زون، غازی اکنامک زون، چترال اکنامک زون، مہمند اکنامک زون اور ڈی آئی خان اکنامک زون شامل ہیں۔ آئندہ ماہ نومبر سے اگلے سال فروری تک مرحلہ وار ان تمام اکنامک زونز کا سنگ بنیاد رکھ دیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت مختلف اکنامک زونز کے قیام پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس منعقد ہوا، اجلاس کو بتایا گیا کہ 76 ایکڑ پر محیط نوشہرہ اقتصادی زون (توسیعی منصوبے ) کا افتتاح رواں ماہ کے آخر تک متوقع ہے جس سے 1.6 ارب روپے کی سرمایہ کاری جبکہ 12 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، سائٹ تک رسائی کے لئے سڑک کی تعمیر اور بجلی فراہمی کا کام جاری ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ایک ہزار ایکڑ کے رشکئی خصوصی اقتصادی زون کا آئندہ ماہ باضابطہ افتتاح متوقع ہے جس میں تقریباً 400 صنعتی یونٹس کی گنجائش ہو گی، منصوبے سے اربوں روپے کی سرمایہ کاری اور دو لاکھ کے قریب روزگار کے مواقع پیدا ہوںگے، اکنامک زون تک رسائی کے لئے سڑک کی تعمیر کا 70 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔

اسی طرح 89 ایکڑ کے غازی اقتصادی زون کا افتتاح دسمبر 2020ء میں کیا جائے گا، منصوبے کے تحت سرمایہ کاری کے لئے درخواستیں موصول ہونا شروع ہو چکی ہے اور بجلی و گیس کی فراہمی کے لئے پیش رفت جاری ہے۔

رواں سال دسمبر میں ہی 40 ایکڑ پر محیط چترال اقتصادی زون کا کمرشل اجراء متوقع ہے جس میں 100 کے قریب صنعتی یونٹس کی گنجائش ہو گی، منصوبے کی ماسٹر پلاننگ سمیت بجلی وغیرہ کی فراہمی کے منصوبے پر کام شروع ہے۔

350 ایکڑ کے مہمند اکنامک زون کا کمرشل اجراء  آئندہ سال جنوری میں کیا جائے گا، منصوبے سے سات ارب زائد سرمایہ کاری اور تقریباً 56 ہزار روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، یہاں 300 صنعتی یونٹس کی گنجائش ہے، یہ منصوبہ تین زونز میں تقسیم کیا گیا ہے، زونز اے کے تحت تمام رقبہ لیز پر دے دیا گیا ہے، منصوبے کے تحت 25 صنعتی یونٹس زیر تعمیر ہیں جبکہ پانچ صنعتی یونٹس کی تعمیر پر جلد کام شروع کر دیا جائیگا۔

علاوہ ازیں 189 ایکڑ رقبے پر محیط ڈی آئی خان اکنامک زون کا باضابطہ اجراء آئندہ سال فروری میں کیا جائیگا۔ منصوبے سے 1.5ارب روپے کی سرمایہ کاری جبکہ 30 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع متوقع ہے، یہ اکنامک زون تقریباً 100 صنعتی یونٹس پر مشتمل ہو گا۔ اب تک منصوبے کے تحت چار یونٹس فعال ہیں ، دو یونٹس زیر تعمیر ہیں جبکہ پانچ یونٹس کی تعمیر جلد شروع کی جائیگی۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ 424 ایکڑ رقبے پر محیط حطار سپیشل اکنامک زون (توسیعی منصوبہ) کے تحت چھ صنعتوں سے پیداوار شروع ہے، 32 صنعتی یونٹس زیر تعمیر ہیں جبکہ سات صنعتی یونٹس تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ منصوبے کے تحت مجموعی طور پر 125 یونٹس کی گنجائش موجود ہے۔ اکنامک زون میں بجلی فراہمی کے لئے 40 فیصد جبکہ گیس فراہمی کے لئے 75 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، اس منصوبے کے ذریعے 40 ارب روپے کی سرمایہ کاری جبکہ 25 ہزار کے قریب روزگار کے بلا واسطہ اور تقریباً 75 ہزار بالواسطہ ذرائع متوقع ہیں۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ نوشہرہ میں 92 ایکڑ رقبے پر محیط ایکسپورٹ پروسسنگ زون بھی قائم کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے 166 ملین ڈالر سے زائد سالانہ ایکسپورٹ متوقع ہے، تقریباً 42 ایکڑ رقبہ الاٹ کر دیا گیا ہے۔

اجلاس کو اگلے مالی سال کے دوران قائم کئے جانے والے اکنامک زونز کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی جن میں 3125 ایکڑ رقبے پر محیط درابن سپیشل اکنامک زون، 408 ایکڑ رقبے پر محیط بنوں اکنامک زون اور 126 ایکڑ رقبے پر محیط بونیر اکنامک زون شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پشاورمیں ویمن بزنس ڈویلپمنٹ کمپلیکس اور کرک میں سالٹ اینڈ جپسم سٹی کا قیام بھی نئے منصوبوں میں شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ محمود خان نے کہا کہ صوبے کا مستقبل صنعتوں سے وابستہ ہے اور حکومت صوبے میں صنعتوں کے قیام کے ذریعے معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے ایک مربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو اکنامک زونز کے قیام پر ٹائم لائنز کے مطابق پیش رفت کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ نے خیبر پختونخوا کے میگا ترقیاتی منصوبوں کو سی پیک میں شامل کرنے کیلئے وفاقی وزراء اسد عمر، مراد سعید، عمر ایوب اور معاون خصوصی ندیم بابر سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، ان ملاقاتوں میں پشاور ڈی آئی خان موٹروے ، دیر موٹروے، سوات موٹروے فیز ٹو اور میگا ہائیڈل پاور پروجیکٹس کو آئندہ جوائنٹ ورکنگ گروپ اور جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی کے اجلاس میں منظوری کے بعد باقاعدہ سی پیک کا حصہ بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعلی محمود خان نے کہا کہ منصوبوں کی سی پیک میں شمولیت اور تکمیل سے خیبر پختونخوا میں سیاحت، توانائی، مواصلات، زراعت، صنعت اور دیگر شعبوں کو فروغ ملے گا، لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے اور صوبے میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ چترال میں پن بجلی کے میگا منصوبوں کی تکمیل کے بعد چکدرہ سوات اور چترال کے بجلی کے مسائل دور ہو جائیں گے اور صوبے میں نئے قائم کئے جانے والے انڈسٹریل زونز کو رعایتی نرخوں پر بجلی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے ضم شدہ اضلاع میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے ان علاقوں میں بجلی کے نظام کو بہتر بنانے ترجیحی بنیادوں پر فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے ہدایت کی کہ منصوبوں کی تجاویز پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے ان کے دستاویزات کو جلد از جلد مکمل کیا جائے، انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مذکورہ منصوبوں پر جے سی سی کے متعلقہ جوائنٹ ورکنگ گروپس میں جائزہ لیا جائے گا۔

اسد عمر نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ سی پیک کے منصوبوں سے متعلق ہر طرح کی مشاورت کرتی رہے گی۔ انہوں نے سی پیک کے متعدد منصوبوں پر عملدرامد پر فعال کردار ادا کرنے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا شکریہ ادا کیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here