سردیوں میں ضروریات پوری کرنے کیلئے فرنس آئل کی درآمد کا امکان

76

اسلام آباد: کابینہ کمیٹی برائے توانائی کی جانب سے آئندہ موسم سرما میں ملکی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فرنس آئل درآمد کرنے کی منظوری دیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن نے کابینہ کمیٹی برائے توانائی سے درخواست کی ہے کہ وہ پیٹرولیم ڈویژن کو اکتوبر2020ء سے جنوری 2021ء  تک کے لیے فرنس آئل کی مناسب سپلائی اور سٹریٹجک ذخائر کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کرے، درخواست میں کہا گیا کہ پیٹرولیم ڈویژن ہائی سلفر فرنس آئل (ایچ ایس ایف او) کی 736078 ایم ٹی درآمد اور لو سلفر فیول آئل (ایل ایس ایف او) کی 362080 ایم ٹی درآمد کرنے کے ضروری انتظامات بھی کرے۔

اسی طرح کمیٹی سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ فنانس ڈویژن کو 2020-21ء کے بجٹ کے لیے پاور ڈویژن کو 50 فیصد سبسڈی جاری کرنے کی ہدایت دے تاکہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کو فرنس آئل کی ضروریات کے لیے ادائیگی کی جا سکے۔

ذرائع نے بتایا کہ پاور پلانٹس کے لیے ہائی اور لو سلفر فیول آئل کی درآمد بجلی کی قیمت میں اضافے کا باعث بنے گی اور صارفین پر اضافی بوجھ پڑنے کے علاوہ توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے میں اضافہ ہو گا، کابینہ کمیٹی برائے توانائی آئندہ اجلاس میں فرنس آئل کی درآمد اور سبسڈی جاری کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے گی۔

یہ بھی پڑھیے:

تیل کی عالمی طلب 2022ء تک وباء سے قبل کی سطح پر آنے کی توقع

کے پی میں دو توانائی منصوبوں کیلئے پاکستان، عالمی بنک کے درمیان 1.15 ارب ڈالر کے معاہدے

پیٹرولیم ڈویژن کے ڈائریکٹوریٹ جنرل نے 8 اکتوبر کو ایک آفس میمورینڈم میں ریفائنری آپریشنز متاثر ہونے کی وجہ سے  ایل ایس ایف او کی وافر درآمد کی مخالفت کی تھی جس کے نتیجے میں شمالی علاقہ جات میں گیس کی دستیابی کم ہو سکتی ہے۔

پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او) کو خریداری کے لیے کم از کم 45 سے 60 دن درکار ہیں، یہ درآمدات اکتوبر اور نومبر 2020ء کے دوران ممکن نہیں ہوں گی تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ان دونوں ماہ کے دوران مقامی سپلائز کافی ہیں۔

پٹرولیم ڈویژن نے درخواست کی گئی ہے کہ دسمبر 2020ء کے دوران پی ایس او کے ذریعے ایچ ایس ایف او اور ایل ایس ایف او کی درآمد کا انتظام کیا جا سکتا ہے جبکہ مذکورہ آئل کی مطلوبہ درآمد کی منظوری کابینہ کمیٹی برائے توانائی کی جانب سے دیے جانے کا امکان ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن نے یہ بھی درخواست کی ہے کہ پاور ڈویژن جینکوز، آئی پی پیز کے ذریعہ آئل کے تمام حجم کو استعمال کرنے کی یقین دہانی کرائے گی تاکہ مصنوعات کو خرابی سے بچایا جا سکے جو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب خان کی زیرِ صدارت نیشنل گرڈ اسٹیشن میں توانائی کی طلب اور رسد کا جائزہ لینے کے لیے 25 ستمبر کو اجلاس منعقد کیا گیا تھا، نیشنل پاور کنٹرول سینٹر (این پی سی سی) نے اجلاس میں بتایا تھا کہ ایل ایس ایف او اور آر ایف او کے ذخائر کم، کئی پاور جنریشن کمپنیز (جینکوز) اور آئی پی پیز کے پاس کم فیول انوینٹری ہے جبکہ آئندہ مہینوں میں گیس کی طلب میں اضافہ ہونے سے گیس اور آر ایل این جی سپلائی میں بھی کمی کا امکان ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن نے نشاندہی کی تھی کہ سردیوں کے دوران وافر آر ایل این جی کو گھریلو سیکٹر کی طرف منتقل کیا جائے گا اور پاور سیکٹر کو قدرتی گیس اور آر ایل این جی کی سپلائی میں کمی کی توقع ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here