مشرق وسطیٰ کی معیشتوں میں کساد بازاری کیوں سر اٹھا رہی ہے؟

مشرق وسطیٰ کے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی معیشت 6.6 فیصد سکڑنے کا امکان، سعودی معیشت کو 5.4 فیصد، یو اے ای 6 فیصد، اومان 10 فیصد، ایران 5 فیصد، لبنان 25 فیصد گراوٹ کے خدشات

95

دبئی: عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے مطابق رواں سال کے دوران مشرق وسطیٰ میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کی معیشت 6.6 فیصد سکڑنے کا امکان ہے۔

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی رپورٹ میں تخمینہ لگایا گیا ہے کورونا وائرس کی وبا کے باعث رواں سال دنیا بھر کی معیشتیں 4.4 فیصد سکڑیں گی۔

آئی ایم ایف کے مطابق 1930ء کی دہائی کے معاشی بحران کے بعد رواں سال دنیا کو بدترین مندی کا سامنا ہو گا۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک میں سے لبنان کو سب سے زیادہ معاشی بحران کا سامنا رہے گا جس کی معیشت 25 فیصد سکڑے گی۔

مشرق وسطیٰ کے خطے میں ایران کو سب سے زیادہ کورونا وائرس کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے جہاں سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔

گزشتہ سال ایران کی معیشت 6.5 فیصد سکڑی تھی جبکہ اس سال 5 فیصد سکڑنے کا امکان ہے۔

مشرق وسطیٰ کے تیل برآمد کرنے والے ممالک کے بارے میں عالمی مالیاتی فنڈ نے اندازہ لگایا ہے کہ رواں سال میں ان کی معیشت 6.6 فیصد سکڑے گی جبکہ آئندہ سال کے دوران خلیجی عرب ریاستوں کی معاشی ترقی کی شرح 2.3 فیصد متوقع ہے۔

تیل پیدا کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ملک سعودی عرب کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کی معیشت 5.4 فیصد سکڑے گی۔

متحد عرب امارات کی معیشت بھی 6 فیصد سے زیادہ سکڑنے کا امکان ہے جبکہ اومان کی معیشت 10 فیصد سکڑنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here