موبائل کمپنی نوکیا چاند پر انٹرنیٹ سروس مہیا کرے گی

167

واشنگٹن: دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں بیٹھ کر موبائل سیلولر ڈیٹا تو سبھی  نے استعمال کیا ہو گا لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اب موبائل انٹرنیٹ چاند پر بھی استعمال کیا جا سکے گا۔

امریکی خلائی کمپنی ناسا نے چاند پر خلابازوں کو کمیونیکیشن کے درپیش مسائل حل کرنے کے لیے موبائل انٹرنیٹ فراہم کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ناسا موبائل بنانے والی معروف کمپنی نوکیا کو چاند پر فور جی ایل ٹی ای سروسز دینے کے لیے 14 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری فراہم کرے گا۔

برطانوی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ چاند پر فور جی سروس کی فراہمی سے وہاں جانے والے خلابازوں اور خلائی جہازوں کو آسانی سے ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ قائم کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیے:

پاکستان، سعودیہ کا انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے پاکستان کی مائیکروسافٹ کے ساتھ بات چیت

انہوں نے کہا کہ ناسا کی فنڈنگ کی بدولت نوکیا چاند کے ماحول کے مطابق ٹیرسٹریل ٹیکنالوجی کو موڈیفائی کر سکے گی تاکہ چاند پر انٹرنیٹ سروس کے ذریعے قابلِ بھروسہ اور اعلیٰ درجے کی پیغام رسانی کو ممکن بنایا جا سکے۔

یہ معاہدہ ناسا کے نئے Atemis پراجیکٹ کا حصہ ہے جس کے تحت مختلف کمپنیوں کو 370 ملین ڈالر کی فنڈنگ فراہم کی جائے گی، اب تک پراجیکٹ کی زیادہ تر فنڈنگ سپیس ایکس اور یونائیٹڈ لانچ الائنس کو کی گئی ہے۔

ناسا چاہتا ہے کہ اس کے ’آرٹیمس‘ پروگرام کے تحت لوگ 2024 تک چاند پر رہائش اختیار کرنا شروع کر دیں۔

نوکیا کا کہنا ہے کہ چاند کی سطح پر پہلا براڈ بینڈ کمیونیکیشن سسٹم 2022 تک قائم کیا جائے گا۔

نوکیا نے اس مقصد کے لیے امریکی ریاست ٹیکساس میں موجود سپیس کرافٹ کمپنی ’انٹیویٹیو مشینز‘ سے شراکت داری کی ہے جو چاند پر آلات پہنچائے گی۔

نوکیا نے کہا ہے کہ وہ چاند پر پہلے فور جی ایل ٹی ای مہیا کرے گی اور اس کے بعد فائیو جی نیٹ ورک بھی متعارف کروایا جائے گا۔

یہ نیٹ ورک خلا بازوں کو آڈیو اور ویڈیو کمیونیکیشن کی سہولت پہنچانے کے ساتھ ساتھ ٹیلی میٹری اور بائیو میٹرک ڈیٹا کا تبادلہ کرنے میں بھی مدد فراہم کرے گی۔

نوکیا کے لیے چاند پر فور جی سروسز فراہم کرنے کی کوشش کوئی نئی بات نہیں، فن لینڈ کی اس موبائل ساز کمپنی نے اس سے قبل 2018ء میں جرمن خلائی کمپنی پی ٹی سائنٹسٹس (PTScientists) اور برطانوی کمپنی ووڈافون کے ساتھ مل کر ایسی ہی ایک کوشش کی تھی جس کا مقصد مشن اپولو 17 کی اس کی سائٹ پر واپس لینڈنگ میں مدد کرنا تھا۔

نوکیا اور ووڈافون مل کر چاند پر فورجی انفراسٹرکچر قائم کرنے والی تھیں، یہ ٹیکنالوجی خلابازوں کو کو چاند سے بہترین کوالٹی کی ویڈیوز زمین پر بھیجنے میں مدد فراہم کرتی لیکن بدقسمتی سے مذکورہ مشن کا کبھی آغاز ہی نہ ہو سکا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here