روپے کا زبردست کم بیک ، ڈالر کے مقابلے میں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

تیل کی کم قیمت، برآمدات میں اضافے ، درآمدات میں کمی، ترسیلات زر میں زبردست اضافے کےنتیجے میں پاکستانی کرنسی میں جان پڑنے لگی، ماہرین نے امریکی ڈالر کی قدر میں مزید کمی کی پیشگوئی بھی کردی

1007

کراچی : ڈالر کے مقابلے میں تیزی سے قدر کھونے والا پاکستانی روپیہ اب آہستہ آہستہ امریکی کرنسی کے مقابلے میں مضبوط ہونے لگا ہے۔

پاکستانی روپیہ اپنی قدر میں بہتری کے باعث ڈالر کے مقابلے میں پانچ ماہ کی بہتر پوزیشن پر آ گیا ہے، 16 اکتوبر کو کرنسی مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر 162.86 پاکستانی روپے کا تھا جوہ 28 مئی کے بعد اس کا کم ترین ریٹ ہے جبکہ رواں برس یہ 168.43 پاکستانی روپے کی بلند ترین سطح تک بھی پہنچ چکا ہے۔

تاہم تجزیہ کار اس صورتحال سے حیران نہیں ہیں، معاشی ماہر خرم شہزاد کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ڈالر کی قدر میں کمی اُمید کے برخلاف نہیں ہے۔

پرافٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ڈالر کی قدر میں مزید کمی آنے کا امکان ہے جس کا نتیجہ مہنگائی اور ملکی قرضوں میں کمی کی صورت میں سامنے آئے گا۔

یہ بھی پڑھیے :

کورونا وائرس کرنسی نوٹ، فون سکرین پر کتنی دیر فعال رہ سکتا ہے؟ نئے انکشافات

انسداد منی لانڈرنگ کیلئے فارن کرنسی اکائونٹ سے متعلق قواعدوضوابط جاری

امریکی کرنسی کی قدر میں کمی کی وجوہات اور اثرات کے حوالے سے ہم نے پاک کویت انویسٹمنٹ کمپنی کے ہیڈ آف ریسرچ سمیع اللہ طارق سے بھی بات کی، جن کا کہنا تھا کہ ‘ ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ، جی 20 ممالک کی  جانب سے قرض ادائیگیوں میں ریلیف، تیل کی کم قیمتیں اور برآمدات کی تسلی بخش صورتحال وہ عوامل ہیں جن کے باعث ڈالر کی قدر میں کمی ہوئی ہے۔ٗ

Tresmark کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر فیصل مامسا کا پرافٹ اردو سے گفتگو میں کہنا تھا کہ ‘اگرچہ حالات موافق نہیں مگر پھر بھی روپے کی قدر میں اضافہ ہو رہا ہے، سوائے ترسیلات زر میں اضافے کے اور کسی چیز میں مثبت تبدیلی نہیں آئی جو ڈالر کی سپلائی میں اضافے کا باعث بن سکے مگر تیل کی کم  قیمتیں اور ستمبر میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ  سرپلس ہونے کے امکانات کے باعث ڈالر کی مانگ میں کمی دیکھی جا رہی ہے جس کی وجہ سے اس کی قدر میں کمی ہوئی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ حال ہی میں 1.8 ارب  روپے کی قرض ادائیگیاں ری شیڈول ہونے کے باعث بھی روپے کو ڈالر کے مقابلے میں سنبھلنے کا موقع ملا ہے۔

کرنسی مارکیٹ کے تاجر کہتے ہیں کہ سمت کی تبدیلی کے باعث درآمد کنندگان نے فی الحال اپنی درآمدات کو بریک لگائی ہوئی ہے مگر برآمد کنندگان کا کاروبار خوب چل رہا ہے اور وہ دھڑا دھڑ ڈالر ملک کے اندر لے کر آرہے ہیں۔

تاہم مقامی عوامل کے علاوہ بین الاقوامی حالات بھی ڈالر کی قدر پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ فیصل مامسا کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ عالمی سطح پر بھی ڈالر کی قدر میں کمی دیکھی جارہی ہے کیونکہ کورونا سے متاثرہ معیشتوں نے آہستہ آہستہ ریکور کرنا شروع کر دیا ہے ۔ زیادہ تر کرنسیوں، جس میں  ہمارے ہمسائیہ ملک بھارت کی کرنسی بھی شامل ہے، کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے جبکہ حالات اور احساسات کی تبدیلی بھی ڈالر کی قدر میں کمی کا باعث بن رہی ہے ۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here