کراچی پورٹ پر درآمدی گندم کی ترسیل کئی روز بعد بھی شروع نہ ہو سکی

ملک میں دستیاب ٹرکوں کی تعداد محدود، درآمدی گندم کی مقدار زیادہ جبکہ گندم کی ترسیل بنا رکاوٹ کے ضروری ہے، درآمدی سپلائی میں خلل کے باعث خراب صورتحال سے مارکیٹوں میں آٹا بحران پیدا ہونے کا خدشہ

245

لاہور: حکومت آٹا و گندم بحران پر قابو پانے کے لیے گندم درآمد کر رہی ہے لیکن کراچی پورٹ پر درآمدی گندم کی ترسیل کا سلسلہ شروع نہیں ہو سکا۔

انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق کراچی پورٹ پر دو لاکھ چالیس ہزار ٹن گندم سے لدھا بحری جہاز لنگر انداز ہو گیا ہے جبکہ پورٹ قاسم پر ایک دوسرا بحری جہاز چار لاکھ ٹن گندم لے کر ہفتے کے روز پہنچ رہا ہے۔

درآمدکنندگان کے مطابق حکومت نے ٹرکوں کا مجموعی وزن 45 ٹن مقرر کرتے ہوئے ٹرانسپورٹرز کو 40 سے 50 فیصد وزن کم کرنے کا کہا ہے۔

اس سے قبل بدھ کے روز پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (پی ایف ایم اے) کے مرکزی چئیرمین بدرالدین کاکٹر نے خبردار کیا تھا کہ سپلائی میں خلل سے صورتحال خراب ہو گی جس سے مارکیٹ میں آٹا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

دسمبر تک پبلک سیکٹر 16 لاکھ ٹن، نجی سیکٹر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرے گا: وزارت خوراک

کابینہ اجلاس: وزیراعظم کی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم کرنے کیلئے فوری اقدامات کی ہدایت

یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ حکومت آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمت کو کم کرنے کے لیے گندم دیگر ممالک سے درآمد کررہی ہے۔

پی ایف ایم اے چئیرمین سندھ زون حاجی محمد یوسف چوہدری نے کہا کہ سندھ کابینہ نے فلور ملز کی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے منگل کے روز 100 کلوگرام آٹے کی فی بوری کی قیمت 3687.50 روپے مقرر کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کابینہ کے فیصلے سے درآمدکی کی گئی 100 کلوگرام فی بوری گندم کی قیمت 5500 روپے سے کم کر کے 5100 روپے پر لائی گئی جبکہ مقامی گندم کی قیمت 5700 روپے سے 5800 روپے فروخت ہونے والی مذکورہ بوری کی قیمت کم کرکے 5300 روپے سے 5400 روپے تک ہو گئی تھی۔

چئیرمین سیریل ایسوسی ایشن آف پاکستان (سی اے پی) مزمل چیپل نے کہا کہ حکومت کی پابندیوں سے ٹرانسپورٹیشن کی لاگت میں اضافہ ہو گا۔ ملک میں ٹرکوں کی تعداد محدود اور درآمدی گندم کی مقدار زیادہ ہے جبکہ گندم کی ترسیل بناء رکاوٹ کے ضروری ہے، ملک میں 10 سے 15 ہزار ٹن یومیہ گندم کی ترسیل کی گئی ہے۔

اس دوران وزیر برائے فوڈ سکیورٹی سید فخرامام نے کہا ہے کہ ملک میں اس وقت 50 لاکھ ٹن گندم کے ذخائر موجود ہیں اور آئندہ سال تک نجی شعبے کی جانب سے 70 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا امکان ہے جبکہ ہماری مجموعی کھپت 60 لاکھ ٹن کے قریب ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here