کورونا، ٹڈی دل سے پاکستانی کسانوں کی آمدن بری طرح متاثر

96

اسلام آباد: پاکستان میں کورونا وائرس اور ٹڈی دل جیسے دو بڑے بحرانوں نے کسانوں کے روزگار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے ایک سروے کے مطابق سندھ میں ٹماٹر کے کسانوں کو شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑا، زیادہ تر کسانوں نے اپنی فصلوں کی کٹائی ہی نہیں کی، منڈیوں میں تاجروں کی عدم دستیابی کی وجہ سے کئی کسانوں نے اپنی پیداوار بیچنے کے لیے شہروں اور بازاروں کا رخ ہی نہیں کیا۔

بالائی سندھ میں زیادہ تر کسانوں نے ٹڈی دل کے حملوں کی تصدیق کی، اندرونِ سندھ میں بھی اکثر کسانوں نے بتایا کہ وہ بھی ٹڈی دل کے بحران سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔

سروے میں بالائی اور اندرونِ سندھ کے کسانوں نے بتایا کہ ٹڈی دل سے متعلق عدم توجہ اور متاثرہ علاقوں میں سروے یا سپرے کرنے میں حکومت مکمل طور پر بے بس رہی۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا کی معاشی تباہ کاریاں : ملکی ٹیکسٹائل شعبے کی برآمدات میں 62 فیصد کمی

وزیر اعظم کی زرعی شعبہ کی بہتری، پیداوار میں اضافہ کیلئے ایکشن پلان پیش کرنے کی ہدایت

چین نےپاکستان کو ٹڈی دل کے خلاف ہائی ٹیک ڈرونز عطیہ کر دیے

اے ڈی بی نے تجویز دی ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے منڈیوں کی سرگرمیوں میں رکاوٹ رہی اور اس سے متعلق اقدامات اب بھی عارضی ہیں۔ حکومت کو منڈیوں کی سرگرمیاں مانیٹر کرنے اور کسانوں کی جانب سے  زرعی اشیاء کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

بینک نے زور دیا ہے کہ ٹڈی دل سے پہنچنے والے نقصانات کو کم کرنے کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے، کسانوں کی مدد کے لیے طویل مدتی سرمائے کی فراہمی کے ساتھ لوگوں کو مستقبل کے لیے ٹڈی دل کے خلاف تیار کیا جائے۔

اے ڈی بی نے جون 2020ء میں کیے گئے سروے کے نتائج میں کہا کہ انہوں نے کورونا وائرس کے دوران کسانوں کی رہنمائی کے لیے ربیع کی فصلوں کی کٹائی، مارکیٹنگ، ڈیری مصنوعات کی دستیابی اور کسانوں کی مالی ضروریات کے لیے اہم معلومات اکٹھی کی ہیں۔ سروے میں شامل آدھے کسانوں نے بتایا کہ وبا کے باعث ان کی آمدن کم ہوئی۔

سروے میں 97.1 فیصد کسانوں نے کہا کہ انہیں بروقت زرعی کھاد یا اشیا کی سپلائی کی ضرورت ہے اور 96.8 فیصد کسانوں نے مطالبہ کیا کہ زرعی پیداوار کی قیمتیں مستحکم رکھی جائیں، اس کے علاوہ 80 فیصد کسانوں نے کہا کہ قرضوں کی ادائیگی کی شرائط کو آسان کیا جائے۔

68 فیصد سے زائد کسان یہ کہتے بھی پائے گئے کہ زرعی سامان کی سپلائی پر پابندیاں ہٹائی جائیں اور کسانوں کے مقامی ضلعوں کی بجائے دیگر ضلعوں میں بھی زرعی منصوعات کی فروخت کی اجازت دی جائے، آدھے سے زیادہ کسانوں نے دیگر پالیسی اقدامات کی تجویز دی۔

کورونا وائرس سے متعلق مسائل نے تمام فصلوں کے کسانوں کو متاثر کیا، گندم کے 65 فیصد کسانوں اور پھل اور سبزیوں کے 67 فیصد سے زائد کسانوں نے اپنی پیداوار فروخت کرنے میں مشکلات کی شکایت کی، سروے کے اعدادوشمار کے مطابق ٹماٹر کے کسانوں کو بھی اسی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔

ڈیری فارمنگ سے وابستہ 81 فیصد افراد نے شکایت کی کہ وہ اپنی پروڈکٹ کو مارکیٹ تک لے جانے میں ناکام رہے، اس طرح دودھ کے تاجروں کو دودھ خریدنے کے مسائل درپیش رہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here