پاکستان کا ترقی پذیر ممالک کے انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے لئے فنڈز کی فراہمی کا مطالبہ

161

اقوام متحدہ: پاکستان نے اقوام متحدہ سے ترقی پذیر ممالک کو انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی سہولت کے لئے فنڈز کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ کورونا وائرس کی وباء سے ہونے والے نقصانات پر قابو پا کر ترقی کےعمل میں تیزی لا سکیں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے جنرل اسمبلی کی مالی اور اقتصادی امور سے متعلق جائزہ کمیٹی کو بتایا کہ وباء کے باعث صدی کی بدترین کساد بازاری پیدا ہوئی ہے جس کی وجہ سے 10 کروڑ سے زائد افراد انتہائی غربت کی لپیٹ میں آ جائیں گے، ایک دہائی کے ترقیاتی فوائد ضائع ہو جائیں گے اور ایجنڈا 2020ء کا حصول ناممکن ہو گا۔

انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سے متعلق بحث میں حصہ لیتے ہوئے  پاکستانی سفیر نے کہا کہ مذکورہ منفی عوامل کے نتیجہ میں غربت، سیاسی انتشار اور ماحولیاتی تباہی پھیلے گی۔  اس ہمہ جہتی بحران پر قابو پانے کے اقدامات کو بڑے پیمانے پر اور مربوط ہونا چاہئے جس سے وباء پر کنٹرول کے اہداف ہم آہنگ ہوں، پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جی) کا ادراک ہو اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی رفتار کم کرنے کے لئے پیرس معاہدے پر عمل درآمد بھی ہو۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ اقوام متحدہ کو بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری کے لئے درکار بڑے اور طویل المدتی فنڈز کو فعال طور پر متحرک کرنا ہو گا۔ ترقی پذیر ممالک میں بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری کو ترجیح دینے کے لئے ایک ٹھوس معاشی استدلال موجود ہے۔

 منیر اکرم سفیر نے کہا کہ اقوام متحدہ کے نظام کے اندر وسیع پیمانے پر مہارت، جس میں زیادہ تر ترقی پذیر ممالک میں اس کے ملکی دفاتر شامل ہیں، کو ترقی پذیر ممالک میں قابل عمل پائیدار ترقیاتی منصوبوں کی نشاندہی کرنے اور تیار کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سیاسی حمایت کے ساتھ ، اقوام متحدہ ترقی پذیر ممالک، آفیشل ڈیویلپمنٹ اسسٹنس فراہم کرنے والوں اور نجی اور سرکاری شعبے کے سرمایہ کاروں کے ذریعہ سرمایہ کاری کے فیصلوں اور اقدامات کو متحرک اور زیادہ سے زیادہ مربوط کرسکتی ہے  تاکہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کو آگے بڑھا یا جاسکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غریب ممالک میں انفراسٹرکچر کی مناسب سرمایہ کاری عالمی معیشت کو بحال اور غربت کو ختم کر سکتی ہے، پیرس معاہدے کی طرف پیشرفت کی یقین دہانی اور بین الاقوامی ترقی کے اہداف پر عمل درآمد میں نمایاں پیش رفت ہو سکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here