کورونا کی معاشی تباہ کاریاں : ملکی ٹیکسٹائل شعبے کی برآمدات میں 62 فیصد کمی

رواں برس کے آٹھ ماہ میں ٹیکسٹائل برآمدات گزشتہ برس کی نسبت آٹھ فیصد بڑھی تھیں مگر کورونا وبا کے پھوٹنے کے باعث سودوں کی منسوخی کی وجہ سے ان برآمدات کو شدید دھچکا لگا

194

لاہور : کورونا کے باعث  ٹیکسٹائل سیکٹر کے منافعے میں گزشتہ برس کی نسبت 62 فیصد کمی ہوگئی۔ ملکی برآمدات کے لیے اہم ترین  شعبے کی آمدن میں سب سے زیادہ کمی  مالی سال 2020 کی چوتھی سہ ماہی میں ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق مالی سال 2020 میں ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات  مالی سال  2019 کی نسبت چھ فیصد گر کر 12.5 ارب ڈالر کی سطح پر آگئیں ۔  پاکستانی کرنسی میں ان برآمدات کے مالی حجم میں گزشتہ برس کی نسبت نو فیصد کمی ہوئی۔

رواں برس کے آٹھ ماہ میں ٹیکسٹائل برآمدات گزشتہ برس کی نسبت آٹھ فیصد بڑھی تھیں مگر کورونا وبا کے پھوٹنے کے باعث سال کے آخری چار ماہ میں سودوں کی منسوخی کے باعث ان برآمدات میں گزشتہ برس کی نسبت 29 فیصد کمی واقع ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیے:

ستمبر میں ملکی برآمدات گزشتہ برس کی نسبت چھ فیصد بڑھ گئیں

برآمدات کے فروغ کے لیے فنانس سکیمیں سٹیٹ بنک پر مالی بوجھ کا باعث ہیں : عالمی بنک کی رپورٹ

کورونا لاک ڈاؤن کے باعث ملکی ٹیکسٹائل صنعت کو مقامی طور پر بھی سیل میں کمی کا سامنا رہا اور رواں برس اس کی کل سیل میں برآمدات کا حجم 71 فیصد ہے جو کہ گزشتہ برس 65 فیصد تھا۔

مجموعی طور پر انڈسٹری کے ریونیو میں نامساعد حالات کے باعث تین فیصد کمی ہوئی جبکہ اس کے گراس مارجنز بھی دباؤ کے شکار رہے اور یہ گزشتہ برس کی نسبت  2.2 فیصد کم ہوکر 14.5 فیصد کی سطح پر آگئے۔

ایسا وبا کے باعث معاشی سرگرمیوں میں کمی، کاٹن کی قیمت میں اضافے، مقامی پیداوار میں کمی اور توانائی کے بلند نرخوں کی وجہ سے ہوا۔

مزید برآں ٹیکسٹائل انڈسٹری کی دیگر ذرائع سے آمدنی (ّجیسے کے توانائی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کے عوض ملنے والے dividend) میں بھی ساٹھ فیصد کمی واقع ہوئی۔

مالی سال 2020 کی چوتھی سہ ماہی میں ٹیکسٹائل کمپنیاں نقصان کی گہرائی میں اتر گئیں اور ایسا کورونا لاک ڈاؤن کے باعث سیل میں کمی کی وجہ سے ہوا۔

مالی سال 2020  کی آخری سہ ماہی میں سیل گزشتہ سال کی نسبت 38 فیصد کم ہوئی جبکہ اس سہ ماہی میں مجموعی گراس مارجنز بھی پچھلے سال کی نسبت 7.8 فیصد کم رہے ۔

ماہرین پاکستان میں کورونا کی صورتحال میں زبردست بہتری کے باعث ملکی ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات کی بحالی کے حوالے سے  پراُمید ہیں کیونکہ مہلک وبا کے باعث منسوخ اور معطل ہونے والے آرڈر دوبارہ موصول ہوگئے ہیں۔

مزید برآں پاکستان کے حریف ممالک جیسا کہ بنگلہ دیش اور بھارت میں وبا کی بگڑتی صورتحال کے باعث خریدار پاکستان کا رُخ کر رہے ہیں ۔

مگر ان تمام اچھی چیزوں کے باوجود ملکی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ملک میں کپاس کی فصل کی پیداوار میں کمی کے باعث اس کی بلند قیمت اور کورونا کے دوسری لہر کے اُٹھ کھڑے ہونے کے امکانات جیسے چیلنجز کا سامنا رہے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here