‘میڈ ان پاکستان’ پالیسی کے فروغ کیلئے حکومت کا مزید 152 مصنوعات پر ٹیکس معافی کا عندیہ

ٹیرف سٹرکچر میں بے قاعدگی کو ہنگامی بنیادوں پر ختم کیا جائے تاکہ صنعتی شعبے کو سستا خام مال فراہم کر کے کاروبار کرنے کی لاگت کو کم کیا جاسکے، اس طریقہ کار سے ملک کی برآمداتی مسابقت بہتر کرنے میں مدد ملے گی، ٹی پی بی کی تجویز

224

اسلام آباد: حکومت نے ‘میڈ اِن پاکستان’ پالیسی کے فروغ کے لیے ٹیرف ریشنلائزیشن کے ذریعے  152 مصنوعات پر کسٹم ڈیوٹیز ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے، اس سے قبل بھی حکومت نے 164 اشیاء پر مختلف طرح کی ڈیوٹیز ختم کی تھیں۔

پاکستان میں تیار نہ ہونے والی ٹیکسٹائل سیکٹر سے متعلقہ 164 اشیاء پر اضافی کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد ٹیرف پالیسی بورڈ (ٹی پی بی) نے مزید مصنوعات یا ٹیرف لائنز پر سے امپورٹ ڈیوٹیز ختم کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد کی زیرصدارت ٹیرف پالیسی بورڈ کا اجلاس ہوا، اجلاس کے دوران ٹی پی بی کو ٹیرف لائنز کی 152 اشیاء پر سے اضافی کسٹمز ڈیوٹی ہٹانے پر کام کرنے کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں سیکرٹری تجارت، چئیرپرسن نیشنل ٹیرف کمیشن، وفاقی بورڈ برائے ریونیو ممبر (کسٹمرز آپریشنز)، ایڈیشنل سیکرٹری صنعت و پیداوار اور ڈائریکٹر بورڈ برائے سرمایہ کاری شریک ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے:

کیلے اور آلو کی تجارتی مقاصد کیلئے کاشت، ایگریکلچر ریسرچ کونسل نے نئی اقسام متعارف کروا دیں

صنعتکاروں کا ٹیکسٹائل انڈسٹری کے خام مال پر عائد زائد ڈیوٹی کم کرنے کا مطالبہ

ٹیکس دہندگان کے لیے استعمال شدہ گاڑیوں پر لیوی 17 فیصد ہو گی، ایف بی آر

مشیرتجارت نے حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے انیشی ایٹو (میڈ ان پاکستان) کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فنانس ایکٹ 2020ء کے ذریعے اس مقصد کو حاصل کرنے کی غرض سے خام مال اور انٹرمیڈیٹ گڈز سے متعلق 162 اشیاء پر امپورٹ ڈیوٹیز کم کر کے صفر کر دی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے مذکورہ پالیسی کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان میں تیار نہ ہونے والی ٹیکسٹائل سیکٹر سے متعلق 164 اشیاء پر اضافی ریگولیٹری ڈیوٹیز اور کسٹمز ڈیوٹی حالیہ ختم کر دی گئی ہیں۔

اجلاس کے دوران ٹی پی بی ارکان نے خام مال اور پاکستان میں تیار نہ ہونے والی اشیاء پر سے اضافی کسٹمز  ڈیوٹیز ختم کرنے کی مختلف تجاویز پر بات چیت کی۔

ارکان نے اپنی تجاویز میں کہا کہ ٹیرف سٹرکچر میں بے قاعدگی کو ہنگامی بنیادوں پر ختم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ صنعتی شعبے کو سستا خام مال فراہم کر کے کاروبار کرنے کی لاگت کو کم کیا جاسکے، اس طریقہ کار سے ملک کی برآمداتی مسابقت بہتر کرنے میں مدد ملے گی۔

این ٹی سی چئیرپرسن کو ارکان نے پلاسٹک سیکٹر کی سٹڈی پر ہونے والی پیشرفت کے بارے میں بریفنگ دی، مشیرتجارت نے دیے گئے وقت کے اندر شعبوں کو سٹڈیز مکمل کرنے پر زور دیا تاکہ ایسے سیکٹرز میں سٹڈی کی بنیاد پر پیش کی گئی تجاویز کے تحت ٹیرف ریشنلائزیشن پر عملدرآمد کیاجائے۔

مشیرتجارت رزاق داؤد نے کہا کہ نیشنل ٹیرف پالیسی 2019-2024 کے مقاصد پر غور و خوض کے لیے ٹی پی بی کا اجلاس مسلسل کیا جائے، اس پالیسی کی بنیاد پر بجٹ کے دوران ٹیرف ریشنلائزیشن سے متعلق تجاویز پر بات چیت کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق ٹریڈ پالیسی میں ٹیرف کو بطور آلہ کار استعمال کیا جائے تاکہ پاکستان میں مینوفیکچرنگ سیکٹر مضبوط ہو سکے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here