ہائےرے مہنگائی، خیبرپختونخوا کی عوام کی دہائی ،حکومت بےبس

صوبے میں اشیا خور و نوش کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئی، دووقت کی روٹی کا انتظام امتحان بننے پر تنخواہ دار طبقہ حیران پریشان، دہاڑی دار کو خودکشی مسائل کا حل نظر آنے لگا

91

پشاور : اشیا خور و نوش کی بڑھتی قیمتوں نے پشاور کے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ لوگوں کی قوت خرید زبردست حد تک کم ہوگئی ہے اور مہنگائی نے گھریلو بجٹ تہس نہس کرکے رکھ دیا ہے ۔

پرافٹ سے گفتگو میں عوام اپنا حال سناتے ہوئے پھٹ پڑے، محمد عمران جو کہ ایک سکول ٹیچر ہیں کا کہنا تھا کہ ”مہنگائی نے عام لوگوں کا جینا دوبھر کردیا ہے، اشیا کی قیمتوں میں خودساختہ اضافہ کرنے والوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں، صوبائی اور ضلعی حکومت کی نااہلی کے سبب لوگ بھوک ہڑتال کرنے پر مجبور ہیں۔”

انکا مزید کہنا تھا کہ اشیا خور و نوش مں حالیہ اضافے نےتنخواہ دار طبقے کی مشکلات  میں اضافہ کردیا ہے جو کہ اب گزارا کرنے کے لیے دکانداروں سے ادھار لے کر کام چلانے پر مجبور ہے۔

یہ بھی پڑھیے :

ہائے رے مہنگائی، کیا دنیا میں اسکی سب سے زیادہ شرح پاکستان میں ہے ؟

پرافٹ کو اپنے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ صوبے کی مارکیٹوں میں دستیابی کے باوجود آٹے کی قیمت روزمرہ بنیاد پر بڑھ رہی ہے۔  ماضی میں آٹے کی قیمت میں اضافہ قلت کے باعث ہوتا تھا مگر اب وافر مقدار میں دستیابی کے باوجود بھی ایسا ہونا تعجب کی بات ہے۔

پرافٹ سےگفتگو میں ایک دہاڑی دار شخص عرفان خان کا کہنا تھا کہ وہ سارا دن محنت مزدوری کے ذریعے  بمشکل پانچ سو روپے کماتا ہے مگر موجودہ مہنگائی میں اس کے لیےدو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے ۔ اس نے انتہائی غمزدہ لہجے میں کہا کہ آٹے کا بیس کلو والا تھیلا چودہ سو اور چینی فی کلو 115 روپے میں مل رہی ہے۔

اسکا کہنا تھا کہ اگر یہی حالات رہے تو مزدور طبقہ اپنے بچوں کا پیٹ نہیں بھر سکے گا اور خود کشی کرنے پر مجبور ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے :

سعودی عرب، ویلیو ایڈڈ ٹیکس میں اضافے کے بعد مہنگائی 6.1 فیصد بڑھ گئی

مہنگائی کےاس طوفان میں عوام کی داد رسی کے لیے ضلعی حکومت کہیں نظر نہیں آرہی۔

شہرمیں دودھ 130 روپے فی لٹر اور عام چاول 140 روپے میں فروخت ہورہا ہے جبکہ مصالحہ جات کی قیمتوں میں بھی تیس سے چالیس روپے کا اضافہ ہوگیا ہے۔

اشیا خور و نوش کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں نے عوام کو سوچ بچار میں ڈال دیا ہے کہ آخر وہ اپنی ضروریات پوری کریں تو کیونکر ؟ جب کہ حکومت اس ساری صورتحال میں عوام کو بے یارومددگار چھوڑ کر منظر سے غائب ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here