چین امریکہ تجارتی جنگ سے پاکستان کو فائدہ اٹھانا چاہیے: ایف پی سی سی آئی

چین کی جو کی درآمدات 500 ملین ڈالر سے زیادہ، پاکستان کو جو کی مقامی پیداوار بڑھا کر چین کو درآمد کرکے زرمبادلہ کمانا چاہیے،  احمد جواد

291

اسلام آباد: وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان (ایف پی سی سی آئی) بزنس مین پینل کے سیکرٹری جنرل چوہدری احمد جواد نے کہا ہے چین امریکہ تجارتی جنگ سے پاکستان کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔

ایک بیان میں احمد جواد نے کہا کہ چین کی بڑی درآمدی مارکیٹ پاکستان کے زرعی شعبہ کےلئے ترقی کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔ پاکستان کو چین کو جو برآمد کرنے کےلئے اپنی پیداوار میں اضافہ کرنا چاہئے، چین میں جو کی مقامی سالانہ پیداوار 10 لاکھ ٹن ہے جبکہ اس کی ضروریات اس سے کہیں زیادہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین میں جو کی کھپت مقامی پیداوار سے کہیں زیادہ ہے اور چینی آبادی جو پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے جس کی وجہ سے مقامی ضروریات پوری کرنے کےلئے جو درآمد کرنے پڑتے ہیں۔

احمد جواد نے کہا کہ چین پاکستانی جو کی بڑی درآمدی منڈی ثابت ہو سکتا ہے تاہم اس کےلئے جو کی مقامی پیداوار میں اضافہ ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال پاکستان میں جو کی پیداوار 63 ہزار ٹن رہی اور 1970ء  سے 2019ء کے دوران پیداوار میں مسلسل کمی کا رجحان رہا ہے۔

احمد جواد نے کہا کہ چین نے امریکہ چین تجارتی تنازعات کی وجہ سے آسٹریلیا سے جو کی درآمدات موخر کر دی ہیں کیونکہ آسٹریلیا نے حالیہ کشیدگی کے دوران جنوبی چینی سمندروں میں امریکہ اور بھارت کے ساتھ مل کر بحری مشقوں میں حصہ لیا تھا۔

احمد جواد نے کہا کہ چین کی جو کی درآمدات 500 ملین ڈالر سے زیادہ ہیں اس لئے پاکستان کو چاہئے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جو کی مقامی پیداوار کے فروغ کےلئے اقدامات کرے تاکہ چین کو جو برآمدکر کے زرمبادلہ کمایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ جو کی پیداوار میں اضافہ کےلئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں، صرف کاشتکاروں کو احساس دلانا چاہئے کہ جو کی پیداوار سے وہ اپنی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ کے دوسرے مرحلہ میں زرعی شعبہ میں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کو شامل کیا گیا ہے جس سے پاکستان میں زرعی پیداوار کے فروغ میں مدد ملے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے اور ہم اس سے آنکھیں بند نہیں کرسکتے۔ تیسری دنیا کے ممالک صرف ٹیکنالوجی سے استفادہ نہ کرنے کی وجہ سے ترقی کی منازل طے نہیں کر سکے۔

احمد جواد کا کہنا تھا کہ چین ایک بڑی درآمدی منڈی ہے اور پاکستان کی برآمدات میں اضافہ سے نہ صرف پاک چین دوطرفہ تجارت کے خسارہ کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ دونوں ممالک سی پیک سے بھی حقیقی استفادہ کر سکیں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here