صنعتکاروں کا ٹیکسٹائل انڈسٹری کے خام مال پر عائد زائد ڈیوٹی کم کرنے کا مطالبہ

ٹیکسوں، ڈیوٹیز کی بھرمار سے برآمدی صنعتوں پر انتہائی منفی اثرات مرتب، محصولات میں بھی کمی ہو رہی ہے: پاکستان یارن مرچنٹس ایسوسی ایشن

145

کراچی: پاکستان یارن مرچنٹس ایسوسی ایشن (پائما) کے نو منتخب سینئر وائس چیئرمین حنیف لاکھانی نے وفاقی حکومت سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کے بنیادی خام مال پولیسٹر فلامنٹ یارن پر عائد زائد ڈیوٹیز کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی بھرمار کی وجہ سے برآمدی صنعتوں پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جس سے ملکی برآمدات متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ حکومت کے ریونیو میں بھی متواتر کمی ہو رہی ہے لہٰذا حکومت صنعتی خام مال کی درآمد پر ڈیوٹیز میں کمی کرکے برآمدی صنعتوں کو مناسب داموں پر خام مال کی دستیابی یقینی بنا کر عالمی منڈیوں میں مسابقت کے قابل بنانے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔

پاکستان یارن مرچنٹس ایسوسی ایشن (پائما) کے 60 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حنیف لاکھانی نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے ممبران کو تین اہم مسائل کا سامنا ہے جن میں اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی، فلامنٹ یارن پر ریگولیٹری ڈیوٹی، فلامنٹ فیبرک کی برآمدات اور سمگل شدہ مال پر ڈیوٹی نہ ہونے کے برابر ہونا اہم مسائل  ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غیر قانونی ذرائع سے فلامنٹ یارن کی سمگلنگ مقامی مارکیٹ پر انتہائی منفی اثرات ڈالتی ہے جس کی وجہ سے اس کاروبار سے وابستہ تاجروں کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس موقع پر پائما کے نومنتخب وائس چیئرمین محمد فرحان اشرفی نے ایسوسی ایشن کے ممبران کی تعداد کو بڑھانے پر زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ فلامنٹ یارن ایکسپورٹ ڈیوٹی ڈراء بیک، ری بیٹ ایف او بی پر صرف 1.12 فیصد ہے جبکہ اگر ہم کسٹمز میں خام مال کی برآمد پر ادا کی جانے والی ڈیوٹی اور ٹیکسوں کا حساب لگائیں تو وہ ایف او بی کا 6 فیصد ہے اس کی درستی کے نتیجے میں سینتھیٹک ٹیکسٹائل کی برآمدات میں اضافہ ہو گا۔

انہوں نے ٹیکسوں، یوٹیلیٹی، امن وامان سمیت دیگر مسائل کے حل میں بھرپور کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ نومنتخب عہدیدار شاندار ٹیم ورک کے ذریعے ممبران کی خدمت کریں گے اور مارکیٹوں سے نکاسی کے نظام کی بھی نگرانی کی جائے گی جبکہ ٹیکسٹائل سے وابستہ مارکیٹوں کے نمائندوں کو بھی مدعو کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر ان سے مشاورت کی جائے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here