کابینہ اجلاس: برٹس ورجن ائیرلائن کو پاکستان کیلئے پروازیں شروع کرنے کی اجازت

ٹی سی پی کی جانب سے درآمد کی جانے والی گندم کی  پری شپمنٹ انسپیکشن، افغانستان کے حوالے سے مجوزہ ویزہ پالیسی کی اصولی منظوری

203

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے برطانوی ایئرلائن ورجن اٹلانٹک کو پاکستان اور برطانیہ کے مابین پروازوں کے اجراء کی اجازت دے دی۔

منگل کو وزیرِاعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملکی قرضوں اور ان کی واپسی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

کابینہ کو مالی سال 2018ء، 2019ء اور 2020ء میں حکومتی قرضوں کے بارے میں بریفنگ میں بتایا گیا کہ موجودہ حکومت کو 30 کھرب روپے کا قرضہ ورثے میں ملا جس کی قسطیں ادا کرنے اور ملک کو دیوالیہ پن سے بچانے کے لئے حکومت کو مزید قرضے لینے پڑے۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ موجودہ دورِ حکومت میں بیرونی قرضوں کی مد میں حکومت نے تقریباً 24 ارب ڈالر قرضہ لیا جس میں سے دو ارب ڈالر عبوری دورِ حکومت میں اٹھایا گیا۔ بیرونی قرضوں کی مد میں گذشتہ دورِ حکومت میں ہر سال تقریبا ساڑھے 5 ارب ڈالر کی شرح سے قرضے واپس کیے جاتے تھے لیکن موجودہ دورِ حکومت میں ہر سال تقریبا 10 ارب ڈالر کے حساب سے قرضے واپس کیے جا رہے ہیں۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ 2019ء میں حکومتی قرضوں میں 7.7 کھرب روپے کا اضافہ ہوا جس کی بڑی وجہ  پاکستانی کرنسی کی حقیقی قدر کو بحال کرنا تھا۔ کوویڈ 19 کی وجہ سے تقریباً ایک کھرب روپے کی آمدن متاثر ہوئی، 2.1 کھرب روپے ماضی کی حکومتوں کی جانب سے لیے گئے قرضوں کی قسطیں ادا کرنے میں صرف ہوئے جبکہ ایک کھرب روپے حکومت کی جانب سے کیش بوفر کے طور پر رکھے گئے۔

سال 2020ء میں یہ اضافہ کم ہو کر 3.5 کھرب ہو گیا۔ پرائمری خسارہ 2019ء میں 1.5 کھرب سے کم ہو کر 2020ء میں ایک کھرب رہ گیا، گذشتہ بارہ سالوں میں پہلی بار مارچ تک پرائمری سرپلس 0.2 کھرب روپے مثبت تھا تاہم کورونا کی وجہ سے یہ متاثر ہوا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ موجودہ حکومت ملکی برآمدات کو بڑھانے اور غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر کو بڑھانے پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔

اجلاس کو توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات خصوصاً گردشی قرضوں میں کمی لانے پر بھی بریفنگ دی گئی، کابینہ کو بتایا گیا کہ ماضی کی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے مالی سال 2018ء میں سالانہ گردشی قرضہ 450 ارب روپے تھا، اگر موجودہ حکومت کی جانب سے مختلف اقدامات نہ کیے جاتے تو سال 2020ء میں یہ قرضہ 853 ارب روپے ہوتا اور 2023ء میں اس میں 1610 ارب روپے کا اضافہ ہوتا۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں سال 2020ء میں 853 ارب روپے گردشی قرضے میں 300 ارب روپے سے زائد کی کمی آئی اور اس سال گردشی قرضے کا تخمینہ 538 ارب روپے لگایا جا رہا ہے۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ مختلف اقدامات جن میں آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت، ریٹرن آن ایکویٹی کو ریشنلائز کرنے، کم کارکردگی کا مظاہر ہ کرنے والے پاور پلانٹس کو بند کرنے، سبسڈی کے نظام کی بہتری و دیگر اقدامات کے نتیجے میں تقریبا 620 ارب روپے کا فائدہ ہو گا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ترسل اور تقسیم کی مد میں نقصانات میں مسلسل کمی لائی جا رہی ہے، سال 2019ء میں ٹی اینڈ ڈی لاسز کو 17.7 فیصد تک لایا گیا، ان میں مزید کمی لائی جا رہی ہے اور سال 2023ء تک ان کو 16.3 فیصد کر دیا جائے گا۔ اسی طرح ریکوری کی مد میں مسلسل بہتری سامنے آ رہی ہے۔ 2023ء تک ریکوری کو 97.7 فیصد تک یقینی بنایا جائے گا۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے جینکوز سے بات چیت کے نتیجے میں آئندہ تین سالوں میں سو (100) ارب روپے کی جبکہ نجی پاور پرڈیوسرز سے معاہدوں کے نتیجے میں 61.6 ارب روپے کی بچت ہو گی۔ مختلف اقدامات کے نتیجے میں سال 2019ء میں 77 ارب روپے کی بچت ہوئی۔

کابینہ نے برطانوی ائیر لائن ورجن اٹلانٹک کو پاکستان اور برطانیہ کے مابین پروازوں کے اجراء کی منظوری دے دی، یہ منظوری پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ائیر سروس معاہدے کے تحت دی گئی ہے، اس معاہدے کی تحت اب تک برطانیہ سے برٹش ائیر ویز جبکہ پاکستان سے پی آئی اے، ائیربلیو اور شاہین ائیر کو دونوں ملکوں کے درمیان پروازوں کی اجازت ملی ہوئی تھی۔

کابینہ نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کی جانب سے درآمد کی جانے والی گندم کے حوالے سے پری شپمنٹ ایجنسیوں کو پری شپمنٹ انسپیکشن کی وَن ٹائم منظوری دیدی۔

وفاقی کابینہ نے افغانستان کے حوالے سے مجوزہ ویزہ پالیسی کی بھی اصولی منظوری دی، کابینہ نے محترمہ آمنہ بی بی کو بطور اینلسٹ فار بائیولوجیکل ڈرگز تعینات کرنے کی منظوری دی جبکہ پاکستان میڈیکل کمیشن ایکٹ 2020ء کے تحت میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے صدر اور نائب صدر (ڈاکٹر ارشد تقی اور علی رضا) کی تعیناتی کی منظوری بھی گئی۔

کابینہ نے سید حسین عابدی کو چئیرمین پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ اسلام آباد تعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ کو ٹیلی میٹری سسٹم کی تنصیب کے معاملے میں ہونے والی انکوائری رپورٹ پیش کی گئی۔ کابینہ نے رپورٹ کی سفارشات کو منظور کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ اس حوالے سے ارسا کے ممبران کو ہٹانے کے اصولی فیصلے پر عمل درآمد کے سلسلے میں مزید کاروائی کی جائے گی۔ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ کے ممبران اپنی مدت تعیناتی چونکہ پوری کر چکے ہیں لہذا پنجاب حکومت سے درخواست کی جائے گی کہ وہ ممبر پنجاب کی بطور ممبر صلاحیت کا جائزہ لے۔

وفاقی ممبر کی جگہ بھی قابل اور تجربہ کار ممبر کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی، ارسا کا پرفارمنس آڈٹ کرایا جائے گا، اس کے ساتھ ساتھ ارسا کے قانون میں ضروری ترامیم بھی عمل میں لائی جائیں گی۔

کابینہ نے چیف ایگزیکیٹیو آفیسر نیلم جہلم ہائیڈرو پاور کمپنی کی بطور سی ای او تعیناتی کی ایکس پوسٹ فیکٹو (بعد از عمل) منظوری دی، یہ تعیناتی منصوبے کو تاخیر سے بچانے کی غرض سے واپڈا کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے پیش کی جانے والی سفارشات اور وزیرِ اعظم کی منظوری سے کی گئی تھی۔ کابینہ نے سی ای او کو مزید ایک سال توسیع دینے کی منظوری دی۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ کل سے ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں بحال ہو جائیں گی اور تین کروڑ بچوں کا سکولوں میں تعلیم کا سلسلہ بحال ہو جائے گا۔ کابینہ نے اس امر پر زور دیا کہ کرونا کے خلاف حفاظتی تدابیر بشمول ماسک کے استعمال پر سختی سے عمل کیا جائے۔

وفاقی کابینہ نے سیکرٹری کابینہ احمد نواز سکھیرا کو اسلام آباد کلب کا ایڈمنسٹریٹر تعینات کرنے کی منظوری دیدی جبکہ  اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 23 ستمبر 2020ء کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی منظوری بھی دی گئی، کابینہ نے کمیٹی برائے توانائی کے 24 ستمبر 2020ء کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق بھی کر دی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here