’آئی پی پیز کیساتھ نئی شرائط پر عملدرآمد سے 800 ارب روپے بچت ہو گی‘

سستی توانائی فراہم کرنے کے لئے 2050ء تک بجلی کی کل پیداوار میں ہائیڈرو پاور کا حصہ 50 فیصد تک بڑھایا جائے گا، چیئرمین واپڈا

150

اسلام آباد: چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے کہا ہے کہ سستی توانائی فراہم کرنے کے لئے 2050ء تک توانائی کی کل پیداوار میں ہائیڈرو پاور کا حصہ 50 فیصد تک بڑھایا جائے گا جس سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور معیشت تیز رفتار ترقی کرے گی۔

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے دورہ کے موقع پر دیامر بھاشا، داسو، مہمند اور دیگر ڈیموں کی تعمیر کے بارے میں تاجر برادری کو تفصیلی پریزنٹیشن دیتے ہوئے چیئرمین واپڈا نے کہا کہ مہنگی بجلی اور توانائی کے مسائل کے باوجود تاجر و صنعتکار برادری کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے اور معیشت کا پہیہ چلانے کے لئے زبردست کام کر ر ہی ہے جو قابل تعریف ہے۔

چیئرمین واپڈا نے کہا کہ دنیا میں پانی کی اوسط ذخیرہ کرنے کی گنجائش 40 فیصد ہے جبکہ پاکستان میں 10 فیصد سے بھی کم ہے اور واپڈا ملک میں مزید ڈیم تعمیر کر کے پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کو بہتر بنانے کے لئے کوشاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ واپڈا نے حکومت کو آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت کے لئے قائل کیا اور اگر آئی پی پیز کے ساتھ نئی شرائط پر عمل درآمد کیا گیا تو اس سے سالانہ 700 سے 800 ارب روپے کی بچت ہو گی۔

چیئرمین واپڈا نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم نے کاروباری برادری خصوصاَ سٹیل، سیمنٹ، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں کے لئے کاروبار کے بے شمار نئے مواقع پیدا کیے ہیں لہٰذا بزنس کمیونٹی کو چاہیے کہ وہ ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھا کر اپنے کاروبار کو فروغ دے۔

انہوں نے کہا کہ واپڈا کو تقسیم کرنا بہتر فیصلہ نہیں تھا کیونکہ اس سے بجلی کے شعبے میں فیصلہ سازی میں ہم آہنگی کا فقدان پیدا ہوا اور گردشی قرضے کو فروغ ملا تاہم حکومت ان معاملات کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بزنس کمیونٹی کو واپڈا کے ساتھ اپنے روابط کو مزید بڑھانا چاہئے جس سے کاروباری ترقی کی راہ ہموار ہو اور پاکستان میں خوشحالی آئے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد احمد وحید نے مزید ڈیم بنانے اور پن بجلی پیدا کرنے پر توجہ دینے کے لئے چیئرمین واپڈا کی کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ کاروبار اور سرمایہ کاری کے بہتر فروغ کیلئے سستی بجلی کی پیداوار اشد ضروری ہے اور واپڈا کی اس مقصد کیلئے کوششیں قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے دنیا کی تین ریٹنگ ایجنسیوں سے مستحکم درجہ بندی حاصل کرنے پر واپڈا کو بھی خراج تحسین پیش کیا جو ادارے کی بڑی کامیابی ہے۔

چیئرمین فائونڈر گروپ میاں اکرم فرید نے کہا کہ مہنگی بجلی کی وجہ سے پیداوری شعبے کی سرگرمیاں بہت متاثر ہو رہی ہیں لہذا پیداواری لاگت کو کم کرنے کے لئے ہائیڈرو پاور پر زیادہ توجہ دی جانی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چھوٹے پاور پلانٹس لگانے کے لئے 250 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے لیکن لائسنس دینے کا عمل منصفانہ نہیں ہے۔ انڈسٹری کو اضافی بوجھ سے بچانے کے لئے ڈسکوز کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے اور فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز سسٹم پر نظرثانی کی جائے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here