قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل نے تربیلا ڈیم متاثرین کو معاوضہ کی ادائیگی کیلئے ذیلی کمیٹی تشکیل دیدی

وزیر اور سیکریٹری آبی وسائل کی اجلاس میں عدم شرکت پر ارکان برہم، واپڈا، ارسا کی بریفنگ، صوبوں میں پانی کی تقسیم کے لئے ٹیلی میٹری سسٹم کا پی سی ون پندرہ دن میں تیار کر لیا جائے گا، واپڈا حکام

331

اسلام آباد: ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل نے تربیلا ڈیم کے باقی رہ جانے والے ان متاثرین کی نشاندہی کے لئے ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی جنہیں ابھی تک معاوضہ ادا نہیں کیا جا سکا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر شمیم آفریدی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔ وزیر آبی وسائل اور سیکرٹری آبی وسائل کی اجلاس میں عدم شرکت پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر شمیم آفریدی نے کہا کہ سیکرٹری آبی وسائل گزشتہ کئی اجلاسوں میں شرکت نہیں کر رہے۔ چیئرمین سینیٹ کو بھی تحریری طور پر آگاہ کیا ہے۔ متعلقہ حکام کمیٹی اجلاسوں میں اپنی شرکت یقینی بنائیں۔ پارلیمان سب سے سپریم ادارہ ہے اور پارلیمنٹ کی کمیٹیوں کو اہمیت دی جائے تاکہ عوام کے مسائل حل کیے جا سکیں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر ثمینہ سعید کے عوامی اہمیت کے مسئلے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ تربیلا ڈیم کیلئے 82 ہزار 109 ایکٹر زمین ہری پور، مانسہرہ، صوابی اور خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقوں اور پنجاب کے ضلع اٹک سے حاصل کی گئی تھی، واپڈا ریکارڈ کے مطابق تمام ڈیم متاثرین کو ادائیگی کر دی گئی ہے، واپڈا کے ذمہ کوئی واجب الاادا کیسز نہیں ہیں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ متاثرین کیلئے پانچ  ٹائون تعمیر کیے گئے جس میں 13459 رہائشی اور کمرشل پلاٹ بھی دیئے گئے، اس کے علاوہ بے شمار متاثرین کو پنجاب اور سندھ کے زرعی علاقوں میں پلاٹ بھی دیئے گئے ہیں جس پر سینیٹر ثمینہ سعید نے کہا کہ صرف 30 فیصد لوگوں کو معاوضہ دیا گیا ہے۔

قائمہ کمیٹی نے سینیٹر سید محمد صابر شاہ کی سربراہی میں ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دیدی جو واپڈا سے متاثرین کو ادائیگی کی فہرست اور باقی رہ جانے والے متاثرین کا جائزہ لے کر دو ماہ میں رپورٹ تیار کرے گی۔ ذیلی کمیٹی میں سینیٹر آغا شاہ زیب درانی اور سینیٹر رانا مقبول احمد کے علاوہ سینیٹر ثمینہ سعید خصوصی طور پر شرکت کریں گی۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر گیان چند کے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا، سینیٹر گیان چند نے کہا کہ 2004ء میں بھی ٹیلی میٹرنگ سسٹم لگایا گیا تھا جو زیادہ موثر ثابت نہیں ہوا، صوبوں کو پانی کی تقسیم کے حوالے سے مسائل کا سامنا ہے، ٹیلی میٹرنگ سسٹم سے صوبوں کو معاہدے کے مطابق پانی مل سکے گا۔

چیئرمین ارسا نے کمیٹی کو بتایا کہ پہلے ٹیلی میٹرنگ سسٹم میں خرابی پیدا ہو گئی تھی اور دوسرا سسٹم لگانے کیلئے دو فرمز نے دلچسپی ظاہر کی تھی اور اس منصوبے میں ورلڈ بنک مدد کر رہا تھا۔

چیئرمین ارسا نے کہا کہ وزارت کی طرف سے ایک فرم پر اعتراض آیا تو ورلڈ بنک نے نئے ماہرین رکھنے کا کہا مگر وزارت نے دوبارہ ٹینڈرنگ کی تو ورلڈ بنک پیچھے ہٹ گیا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ٹیلی میٹرنگ سسٹم دو سے تین سالوں میں لگ جائے گا۔ واپڈا پی سی ون تیار کر رہا ہے، واپڈا حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 15 دن تک پی سی وَن تیار کر لیا جائے گا۔

سینیٹر رانا مقبول احمد نے کہا کہ دریائے چناب میں پانی کی مقدار نہ ہونے کے برابر ہے اور معاہدے کے مطابق بھارت دریائے چناب کے پانی کو روک نہیں سکتا جس پر چیئرمین ارسا نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں تفصیلات فراہم کر دی جائیں گی۔

سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ جلد سے جلد ٹیلی میٹرنگ سسٹم لگایا جائے تاکہ تمام صوبوں کو معاہدے کے مطابق پانی مل سکے۔

قائمہ کمیٹی کو تانڈہ ڈیم سے پن بجلی پیدا کرنے کے امکانات کی سٹڈی کرانے کے حوالے سے بتایا گیا کہ سینیٹ قائمہ کمیٹی کے احکامات کی روشنی میں پیڈو نے کنسلٹنٹ ہائیر کرنے کیلئے کام شروع کر دیا ہے جس دسمبر 2020ء تک مکمل ہو جائے گا۔

کنسلٹنٹ نہ صرف تانڈہ ڈیم بلکہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے جنوبی اضلاع میں واقع تمام ڈیموں کی سٹڈ ی کر کے رپورٹ تیار کریں گے کہ ان سے کتنی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔

اس مقصد کیلئے پی سی ٹو کی سی ڈی ڈبلیو پی نے 19 اگست 2020ء کو منظوری بھی دے دی ہے۔ پی سی ٹو کیلئے فنڈز ورلڈ بنک فراہم کرے گا۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر ولید اقبال، ثنا جمالی، سید محمد صابر شاہ، میر محمد یوسف بادینی، رانا مقبول احمد، ثمینہ سعید اور گیان چند کے علاوہ جوائنٹ سیکرٹری وزارت آبی وسائل، چیئرمین ارسا، ممبر واپڈا اور دیگر حکام نے شرکت کی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here