عطاء آباد ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کام شروع

دریائے ہنزہ پر کریم آباد سے 20 کلومیٹر، گلگت سے 130 کلو میٹر بالائی جانب اس پراجیکٹ کی فزیبلٹی سٹدی 2021ء میں مکمل ہو گی

171

لاہور: چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ( ریٹائرڈ) مزمل حسین نے کہا ہے کہ عطاء آباد ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کام شروع کیا جا چکا ہے، اس پراجیکٹ کی تکمیل سے گلگت بلتستان کی اقتصادی اور معاشرتی ترقی میں مدد ملے گی۔

عطاء آباد ہائیڈو پراجیکٹ دریائے ہنزہ پر کریم آباد سے 20 کلومیٹر جبکہ گلگت سے 130 کلو میٹر بالائی جانب لگایا جا رہا ہے۔

گزشتہ روز چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ( ر) مزمل حسین نے پراجیکٹ سائٹ کا دورہ کیا جہاں چیف سیکریٹری گلگت بلتستان، جنرل منیجر (ہائیڈرو پلاننگ)، جنرل منیجر پراجیکٹس (نادرن ایریاز) اور دیگر متعلقہ آفیسرز بھی اِس دوران موجود تھے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین واپڈا نے کہا کہ 50 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کا عطاء آباد ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ہنزہ اور نگر کی وادیوں میں بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں انتہائی معاون ثابت ہو گا جس کی وجہ سے مذکورہ علاقوں میں اقتصادی سرگرمیاں پروان چڑھیں گی اور علاقے میں سیاحت سے متعلق سہولیات کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ واپڈا نے پراجیکٹ کی فزیبلٹی سٹڈی تیار کرنے کے لئے دو کروڑ 20 لاکھ روپے پر مشتمل درکار فنڈز ہائیڈرو پلاننگ کو جاری کر دیئے ہیں۔ فزیبلٹی سٹڈی کی تکمیل 2021ء کی پہلی سہ ماہی میں متوقع ہے۔

فزیبلٹی سٹڈی اور تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن کے بعد پراجیکٹ پر تعمیراتی کام کا آغاز کیا جائے گا جس کے بعد چار سال کی مدت میں منصوبہ مکمل ہو گا۔

قبل ازیں پراجیکٹ پر بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ منصوبہ کے ابتدائی سروے کا کام تقریباً مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ زلزلہ کے اثرات جانچنے اور جیالوجیکل میپنگ کے لئے ماہرین پر مشتمل ٹیمیں پراجیکٹ سائٹ پر کام کر رہی ہیں۔

علاوہ ازیں جیو ٹیکنیکل مطالعات اور ہائیڈرو گرافک سروے کا بھی آغاز کیا جا چکا ہے، چیئرمین واپڈا نے منصوبے پر ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔

گلگت بلتستان کے دورے کے دوسرے مرحلے میں چیئرمین واپڈا نے دیامر بھاشا ڈیم کا دورہ کیا اور پراجیکٹ ایریا میں مختلف سائٹس پر تعمیراتی کام کا جائزہ لیا۔ جنرل منیجر دیامر بھاشا ڈیم نے چیئرمین واپڈا کو منصوبے پر جاری تعمیراتی کام کے بارے میں بریفنگ دی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here