زندگی بچانے والی ادویات کی درآمد پر پابندی سے استشنیٰ، 94 کی ریٹیل پرائس مقرر

کورونا سے بچاﺅ کے انجیکشن کی قیمت 10 ہزار 873 سے کم کرکے 8 ہزار 244 روپے کر دی، جنسی جرائم سے متعلق سخت قانون لانے کی ہدایت

236

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے اینٹی کینسر، کارڈیک ڈرگز اور زندگی بچانے والی ادویات کی درآمد کو بعض شرائط کے تحت پابندی سے مستشنیٰ قرار دے دیا جبکہ 94 ادویات کی ریٹیل پرائس مقرر کر دی۔

وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد معاون خصوصی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وفاقی کابینہ کو اجلاس کے دوران جنسی جرائم کی روک تھام سے متعلق مجوزہ بل پر بریفنگ دی گئی، اس مجوزہ قانون کا مقصد جنسی جرائم کی موثر روک تھام کو یقینی بنانا، مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانا، تفتیش کے دوران متاثرہ خاتون کی عزت نفس کا تحفظ اور بحالی، کیس کی تفتیش میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور جنسی جرائم سے متعلقہ سزاﺅں کو سخت ترین بنانا شامل ہے۔

شبلی فراز نے کہا کہ اسلام آباد ماڈل جیل کے معاملے پر کابینہ کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں اجلاس کی توجہ ماضی میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے دی گئی ہدایات کی طرف دلائی گئی، کابینہ نے کہا کہ گرین ایریاز پر تعمیرات کے حوالے سے کابینہ کا موقف بڑا واضح ہے تاہم اس حوالے سے تمام حقائق معزز عدالت کے سامنے پیش کیے جائیں اور ان کی ہدایات کے مطابق عمل درآمد کیا جائے گا۔

مشیر داخلہ کی جانب سے رٹ پٹیشن نمبر 2407/2020 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایات سے متعلق کابینہ کو بریف کیا گیا، کابینہ ڈویژن کی ورکنگ سے متعلق معاملات کی آٹومیشن کے حوالے سے اجلاس کو بریفنگ دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ نے کنٹونمنٹس ایکٹ 1924ء کے تحت سات مختلف کنٹونمنٹس کی ری کلاسیفیکیشن کی منظوری دی۔ کابینہ نے کنٹونمنٹ بورڈ کے ممبران کی معیاد ختم ہونے کے بعد نئے ممبران تعینات کرنے کے حوالے سے پیش کی جانے والی تجویز کی بھی منظوری دی۔

یہ نیا بورڈ ایک سال کے لئے ہو گا تاہم ضرورت پڑنے پر اس میں توسیع کی جا سکے گی۔ یہ بورڈ لوکل گورنمنٹ الیکشنز کے ذریعے صاف اور شفاف الیکشن کے عمل کو یقینی بنائے گا۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا تھا کہ لوکل گورنمنٹ الیکشن 2015ء کے تحت قائم شدہ بورڈ کی مدت دسمبر 2019ء میں ختم ہو جائے گی۔

کابینہ نے نیپرا اپیلیٹ ٹربیونل کے لئے جسٹس (ر) عبادالرحمن لودھی کی بطور چیئرمین اور ذیشان شاہد کی بطور ممبر فنانس تعیناتی، جسٹس (ر) محمد موسیٰ لغاری کی بطور چیئرمین انوائرنمنٹل ٹربیونل اسلام آباد تعیناتی جبکہ چیئرمین پاکستان آئی لینڈز ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے عہدے کی شرائط و ضوابط کی منظوری دی۔

اس دوران ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ کابینہ نے اینٹی کینسر، کارڈیک ڈرگز اور زندگی بچانے والی ادویات کی درآمدات کو بعض شرائط کے تحت پابندی سے مستشنیٰ قرار دینے کی تجویز کی منظوری دیدی۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ نے ریمیڈیسوئر 100 ملی گرام انجیکشن کی قیمت 10 ہزار 873 روپے سے کم کر کے 8 ہزار 244 روپے کرنے کی منظوری بھی دے دی ہے۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے 94 ادویات کی زیادہ سے زیادہ ریٹیل قیمت مقرر کرنے کی منظوری دی ہے جن میں کینسر، بلڈ پریشر، مرگی اور امراض قلب کی دوائیں شامل ہیں، تاہم کابینہ نے ہدایت کی کہ یہ قیمتیں 30 جون 2021ء تک منجمند رہیں گی۔و

وفاقیکابینہ نے ممبر (آئل) اوگرا کی تعیناتی کے حوالے سے پیش کی جانے والی تجویز موخر کر دی جبکہ اوگرا چیئرمین کے عہدے کے لئے ازسر نو اشتہار جاری کرنے اور مناسب امیدوار کا انتخاب کرنے کی ہدایت کی۔

کابینہ نے وزارتِ خارجہ اور انٹرنیشنل سینٹر فار مائیگریشن کے درمیان تعاون کے معاہدے کی منظوری دی۔

کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے 09 ستمبر 2020ء اور 16 ستمبر 2020ء کے اجلاسوں میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی، ان فیصلوں میں خصوصی ضروریات کے حامل افراد کے لئے گاڑیوں کی درآمد، ٹریڈنگ کارپوریشن کی جانب سے 15 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت دینا بھی شامل ہے۔

کابینہ کو پاور سیکٹر اصلاحات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی، کابینہ نے کمیٹی برائے توانائی کے 10 ستمبر 2020ء اور 18 ستمبر 2020ء کے اجلاسوں میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر شبلی فراز نے کہا کہ عالمی معاہدے ختم نہیں ہو سکتے اور نہ ہی اس سے باہر جا سکتے ہیں لیکن موجودہ حکومت نے توانائی کے شعبے کے حوالے سے عالمی معاہدوں کو دیکھنا شروع کیا ہے، اس کا مقصد بجلی کی قیمت میں کمی لانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے بجلی کی پیدوار پر توجہ دی مگر تقسیم اور ترسیل کے نظام پر توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے لائن لاسز اور دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ گردشی قرضے 2.1 کھرپ تک پہنچ گئے۔ موجودہ حکومت نے توانائی سے متعلق تمام امور کو ریگولرائز کرنے کا عمل شروع کیا ہے، اس سے پہلے کسی نے اس طرف توجہ نہیں دی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here